کراچی: کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) نے دو غیرملکی بلک کیریئرز کو بیک وقت ہینڈل کیا ہے جو مجموعی طور پر ایک لاکھ ایک ہزار ٹن ڈی اے پی کھاد اور گندم لے کر پہنچے۔ ڈان کے مطابق وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے بتایا کہ دونوں جہازوں کی ایک ساتھ ان لوڈنگ کراچی پورٹ کی اہم زرعی ان پٹس اور ضروری خوراکی اجناس سنبھالنے کی عملی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایم وی ژونگ چانگ 538 پر 50 ہزار ٹن ڈائی امونیم فاسفیٹ (ڈی اے پی) کھاد لدی تھی، جبکہ ایم وی گوکووا ایم 51 ہزار ٹن گندم لے کر پہنچا۔ دونوں جہاز کراچی گیٹ وے ٹرمینل ملٹی پرپز پر برتھ کیے گئے۔ حکومت کی ہدایت پر ضروری اجناس لے کر آنے والے ان جہازوں کو ترجیحی برتھنگ دی گئی تاکہ کارگو کی ترسیل میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو۔
وفاقی وزیر نے کے پی ٹی کے انجینئرز، پورٹ آپریٹرز، پائلٹس، ٹرمینل آپریٹر، ڈاک ورکرز اور ٹرانسپورٹرز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ضروری درآمدات کی بروقت ہینڈلنگ زرعی پیداوار اور غذائی تحفظ کے لیے اہم ہے۔ ڈی اے پی فصلوں کے لیے اہم فاسفیٹ کھاد ہے، جبکہ گندم بنیادی غذائی جنس ہونے کے باعث ملکی سپلائی چین میں نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔
کے پی ٹی کے چیئرمین ریٹائرڈ ریئر ایڈمرل شاہد احمد کے مطابق کراچی پورٹ ملک کی تجارت اور سپلائی چین میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے، بالخصوص زرعی ان پٹس اور ضروری خوراکی اشیا کی درآمد میں۔ انہوں نے کہا کہ پورٹ اتھارٹی بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے۔
وزارت بحری امور کے مطابق بندرگاہی اصلاحات میں جہازوں کے ٹرن اراؤنڈ ٹائم میں کمی، پورٹ مینجمنٹ بہتر بنانے اور بحری انفراسٹرکچر مضبوط کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ تاہم دونوں جہازوں کی کامیاب ہینڈلنگ کو کسی نئی درآمدی پالیسی یا مقامی قیمتوں میں فوری تبدیلی کا اعلان نہیں سمجھا جا سکتا؛ کارگو کی مارکیٹ تک رسائی کسٹمز، کلیئرنس، ذخیرہ اور اندرون ملک ترسیل کے الگ مراحل سے مشروط ہوتی ہے۔
