اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کراچی میں بندرگاہی کاروبار کے لیے مجوزہ ون ڈور سہولت مرکز کے قیام پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سرکاری پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق وزیر نے وزارت بحری امور کے ہفتہ وار جائزہ اجلاس میں جاری منصوبوں اور پالیسی اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ پورٹ ٹریڈ سے متعلق سرکاری خدمات ایک ہی جگہ دستیاب ہونی چاہییں تاکہ کاروباری اداروں کو مختلف محکموں کے الگ الگ مراحل سے گزرنے کی ضرورت کم ہو۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ مجوزہ ون ڈور سیل کا مقصد بندرگاہی تجارت سے متعلق اجازت ناموں، رجسٹریشن، رابطہ کاری اور دیگر سرکاری خدمات تک رسائی آسان بنانا ہے۔ وزیر نے اس منصوبے کو وزیر اعظم کے تجارتی سہولت کاری کے وژن سے جوڑتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کام کی رفتار بڑھائی جائے اور ایسے عملی طریقہ کار تیار کیے جائیں جو کاروبار کرنے میں آسانی بہتر کر سکیں۔

وزارت کے جائزے میں جہازوں کی رجسٹریشن اور ماہی گیری کے جہازوں کی رجسٹریشن کے طریقہ کار کو سادہ بنانے کی تجاویز بھی زیر بحث آئیں۔ اس کے علاوہ بلیو اکانومی، فشریز برآمد کنندگان کے لیے ممکنہ ٹیکس مراعات اور سمندری تجارت کے مختلف ضابطہ جاتی معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے نیشنل میری ٹائم پالیسی اور نیشنل فشریز اینڈ ایکواکلچر پالیسی کی تیاری میں ہونے والی پیش رفت پر بھی بریفنگ دی۔

اجلاس میں شپنگ اینڈ ٹرانس شپمنٹ پالیسی، پورٹ قاسم کے ترقیاتی منصوبوں، سی ٹو اسٹیل پروجیکٹ اور مجوزہ انٹیگریٹڈ میری ٹائم انڈسٹریل کمپلیکس پر بھی گفتگو ہوئی۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کی منوڑہ ورکشاپ کی بحالی اور گوادر پورٹ کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

وزارت نے میری ٹائم ایجوکیشنل اینڈومنٹ فنڈ کے تصور پر بھی غور کیا، جس کا مقصد سمندری شعبے کے لیے تعلیم اور انسانی وسائل کی تیاری کو سہارا دینا ہے۔ وزیر نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی رفتار برقرار رکھی جائے اور ایسے اقدامات کو ترجیح دی جائے جو تجارت، فشریز اور بندرگاہی خدمات میں عملی رکاوٹیں کم کر سکیں۔

یہ ہدایات منصوبوں کی رفتار بڑھانے اور پالیسی سازی کے عمل سے متعلق ہیں؛ سرکاری بیان میں ون ڈور مرکز کے افتتاح کی حتمی تاریخ، مکمل بجٹ یا تمام خدمات کی تفصیلی فہرست جاری نہیں کی گئی۔ اس لیے اس سہولت کے حقیقی اثرات کا اندازہ اس کے عملی قیام، مختلف سرکاری اداروں کے انضمام اور کاروباری صارفین کے لیے وقت و لاگت میں ہونے والی کمی سے ہو گا۔