اسلام آباد: پاکستان کی جوہری ذرائع سے بجلی کی پیداوار 2025 میں 3.7 فیصد اضافے کے ساتھ ریکارڈ 22.5 ٹیراواٹ آور تک پہنچ گئی۔ یہ اعداد و شمار ورلڈ نیوکلیئر انڈسٹری اسٹیٹس رپورٹ 2026 میں دیے گئے ہیں، جس نے عالمی جوہری صنعت کی پیداوار، صلاحیت، زیر تعمیر منصوبوں اور ری ایکٹرز کی صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی خالص جوہری بجلی پیداوار 2024 میں 21.7 ٹیراواٹ آور تھی، جو اگلے سال بڑھ کر 22.5 ٹیراواٹ آور ہو گئی۔ اس کے باوجود ملک میں شمسی توانائی کی پیداوار اس سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھی۔ رپورٹ نے 2025 کے لیے پاکستان کی شمسی پیداوار 36.3 ٹیراواٹ آور بتائی اور کہا کہ یہ تخمینہ بھی کم ہو سکتا ہے کیونکہ گھروں اور کاروباروں میں نصب متعدد سولر نظام گرڈ کے میٹر سے باہر بجلی پیدا کرتے ہیں۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب پاکستان میں شمسی توانائی کی سالانہ پیداوار جوہری بجلی سے واضح طور پر آگے نکلی۔ اس پیش رفت سے ملک کے بجلی کے شعبے میں توانائی کے ذرائع کی ترکیب میں تیز تبدیلی ظاہر ہوتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب صارفین مہنگی گرڈ بجلی سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر سولر نظام اختیار کر رہے ہیں۔

ورلڈ نیوکلیئر انڈسٹری اسٹیٹس رپورٹ ایک بین الاقوامی جائزہ ہے جو جوہری توانائی کے شعبے کے اعداد و شمار اور رجحانات مرتب کرتا ہے۔ 2026 کی رپورٹ 29 ستمبر کو جاری کی گئی اور اس میں 2025 کے عالمی پیداواری اعداد و شمار شامل ہیں۔ پاکستان سے متعلق اعداد میں چھ آپریشنل جوہری ری ایکٹرز کی مجموعی کارکردگی شامل ہے۔

جوہری پیداوار میں اضافہ توانائی کی فراہمی کے اعتبار سے اہم ہے، تاہم رپورٹ کے اعداد یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ پاکستان میں سولر کا پھیلاؤ بجلی کے روایتی ذرائع کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز ہے۔ رپورٹ میں کسی ایک سال کے پیداواری اضافے کو مستقبل کی ضمانت قرار نہیں دیا گیا؛ اس لیے 2025 کا ریکارڈ ملکی توانائی کے ڈھانچے میں جاری تبدیلی کا ایک تازہ اشارہ ہے، نہ کہ آئندہ پیداوار کی حتمی پیش گوئی۔