لاہور: وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت نے کسی ہنگامی صورت حال میں ایل پی جی کی قلت سے بچنے کے لیے بیرونِ ملک سے درآمد میں سہولت دینے کی سمری وفاقی کابینہ کو بھجوا دی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق وزیر نے مغلپورہ میں اپنے حلقے کے ایک عوامی اجتماع اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بدلتی ہوئی بین الاقوامی توانائی صورتحال کے پیش نظر خام تیل، پٹرول، ڈیزل، قدرتی گیس اور ایل پی جی کی مناسب دستیابی یقینی بنانے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
علی پرویز ملک کے مطابق دسمبر، جنوری اور فروری کے دوران گیس کی طلب اور رسد کو سامنے رکھتے ہوئے سردیوں کے لیے جامع انتظامات زیر غور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کو ملک کی متوقع گیس ضرورت، دستیاب وسائل اور ممکنہ چیلنجز سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی اور عالمی حالات کی وجہ سے درآمدی ایندھن کی فراہمی اور قیمت دونوں پر دباؤ آ سکتا ہے، اس لیے حکومت متبادل انتظامات پر کام کر رہی ہے۔
ایل پی جی قیمتوں کے بارے میں وفاقی وزیر نے کہا کہ مقامی نرخوں کے تعین میں اوگرا کا طریقہ کار اور سعودی آرامکو کی ماہانہ کنٹریکٹ پرائس اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سردیوں میں طلب بڑھنے کے پیش نظر حکومت کی ترجیح یہ ہے کہ مارکیٹ میں ایل پی جی کی دستیابی برقرار رہے اور کسی اچانک رکاوٹ کی صورت میں درآمدی راستہ استعمال کیا جا سکے۔ کابینہ کو بھیجی گئی سمری ابھی منظوری کے مرحلے میں ہے، اس لیے اسے نافذ شدہ فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی تیل قیمتوں میں کمی کا فائدہ صارفین تک منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کو اوگرا کے شفاف طریقہ کار سے منسلک قرار دیا۔ انہوں نے کم آمدن طبقوں کے لیے موجود ایندھن ریلیف اسکیم کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ تقریباً نو ملین شہری اس سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ ان کے مطابق اہل موٹر سائیکل سواروں اور 800 سی سی تک گاڑی رکھنے والے صارفین کو فی لیٹر 100 روپے تک ریلیف دیا جا رہا ہے۔
توانائی کی درآمدات پاکستان کے بیرونی کھاتے، افراط زر اور صنعتی لاگت کے لیے حساس معاملہ ہیں۔ تیل یا گیس کی عالمی قیمتوں میں اچانک اضافہ براہ راست مقامی قیمتوں، زرمبادلہ کی ضرورت اور حکومتی سبسڈی یا ریلیف کے مالی بوجھ کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے سردیوں سے پہلے گیس اور ایل پی جی کی دستیابی، درآمدی معاہدوں اور ذخائر کی منصوبہ بندی اہم ہے۔
حکومت کے موجودہ بیانات منصوبہ بندی اور تیاری کے مرحلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایل پی جی درآمد میں سہولت سے متعلق اصل پالیسی تبدیلی اسی وقت حتمی سمجھی جائے گی جب وفاقی کابینہ سمری کی منظوری دے اور متعلقہ قواعد یا انتظامی طریقہ کار باضابطہ طور پر جاری کیے جائیں۔

