اسلام آباد: پاکستان کی مچھلی اور دیگر سمندری خوراک کی برآمدات رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 125.4 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے پیر کو جاری بیان میں بتایا کہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں برآمدی آمدن 71.9 ملین ڈالر تھی، جس کے مقابلے میں موجودہ سہ ماہی میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ برآمدی آمدن میں اضافہ پاکستان کی ساحلی معیشت اور بلیو اکانومی میں موجود امکانات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ان کے مطابق ماہی گیری کا شعبہ ساحلی آبادیوں کے روزگار کا اہم ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کمانے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔ بیان میں گزشتہ تین برس کے دوران برآمدی حجم کے اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے، جن کے مطابق پہلی سہ ماہی میں مقدار 2023-24 کے 35,294 میٹرک ٹن سے بڑھ کر 2024-25 میں 43,995 میٹرک ٹن اور 2025-26 کی اسی مدت میں 61,679 میٹرک ٹن تک پہنچی۔ وزیر کے مطابق تین برس میں برآمدی حجم میں 74.8 فیصد اضافہ ہوا۔
جنید انور چوہدری نے میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں سمندری خوراک کی برآمدی آمدن 568 ملین ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچی۔ انہوں نے روس سمیت نئی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کو اہم پیش رفت قرار دیا۔ وزیر نے یہ بھی کہا کہ امریکا کو جھینگوں کی برآمدات بحال کرنے کی کوششیں اور پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون میں ماہی گیری کے لائسنسنگ نظام کی بحالی شعبے کے لیے مزید مواقع پیدا کر سکتی ہے۔
بیان میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ صرف برآمدی مقدار بڑھانا کافی نہیں ہوگا۔ یورپی یونین اور دیگر زیادہ قدر والی منڈیوں تک پائیدار رسائی کے لیے ادارہ جاتی کمزوریوں، تکنیکی معیار، فوڈ سیفٹی، ٹریس ایبلٹی اور انسانی وسائل سے متعلق رکاوٹوں کو دور کرنا ضروری ہے۔ وفاقی وزیر نے میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ کے فشریز ٹریننگ سینٹر کی بحالی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پیشہ ورانہ تربیت، تکنیکی استعداد اور بین الاقوامی معیار پر عمل درآمد بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
سمندری خوراک کی تازہ برآمدی کارکردگی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان اپنی برآمدی بنیاد کو روایتی شعبوں سے آگے بڑھانے اور ساحلی وسائل کو زیادہ منظم انداز میں استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم اعداد و شمار اور پالیسی اہداف کے درمیان مستقل بہتری کا انحصار ماہی گیری کے پائیدار انتظام، معیار کی نگرانی، بندرگاہی اور کولڈ چین سہولتوں، نئی منڈیوں تک رسائی اور مقامی ماہی گیر برادریوں کے مفادات کے تحفظ پر ہوگا۔

