اسلام آباد: لاہور ہائیکورٹ نے ایک ٹیکس تنازع میں قرار دیا ہے کہ کسی متنازع رقم کو احتجاجاً ادا کرنا، محض اس بنیاد پر، جرم یا ٹیکس دہندہ کی قصوروار ی کا اعتراف نہیں سمجھا جا سکتا۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق عدالت کے ڈویژن بینچ نے وفاقی بورڈ آف ریونیو کے سیلز ٹیکس ریفرنس کو مسترد کرتے ہوئے وفاقی ٹیکس محتسب کے اس فیصلے کی توثیق کی جس میں ٹیکس دہندہ کے حق میں ریلیف دیا گیا تھا۔

مقدمہ ایف بی آر کے ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کی ایک تحقیقات سے متعلق تھا، جس میں رجسٹرڈ افراد کے رجسٹریشن نمبرز کے مبینہ غلط استعمال کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔ رپورٹ کے مطابق متعلقہ ٹیکس دہندہ کو قانون کی دفعہ 37 کے تحت طلب کیا گیا اور اس نے رقم احتجاجاً جمع کرا دی۔ بعد میں جاری آرڈر اِن اوریجنل میں اسی رقم کے ساتھ سو فیصد جرمانہ اور ڈیفالٹ سرچارج بھی طلب کیا گیا۔

کمشنر اپیلز اور اپیلیٹ ٹریبونل اِن لینڈ ریونیو نے جرمانہ اور سرچارج ختم کیا، جبکہ وفاقی ٹیکس محتسب نے احتجاجاً جمع کرائی گئی رقم واپس کرنے اور متعلقہ آرڈر منسوخ کرنے کی سفارش کی۔ ایف بی آر نے معاملہ لاہور ہائیکورٹ میں اٹھایا، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ احتجاج کے ساتھ ادائیگی کو کسی جرم کے ضروری عناصر کے اعتراف کے طور پر نہیں لیا جا سکتا، خصوصاً جب اس کے حق میں آزاد شواہد موجود نہ ہوں۔

عدالت کے مطابق ایک ٹیکس دہندہ تادیبی یا جبری کارروائی سے بچنے کے لیے رقم ادا کر سکتا ہے اور ساتھ ہی اپنی قانونی ذمہ داری کو چیلنج کرنے کا حق محفوظ رکھ سکتا ہے۔ فیصلے میں یہ اصول بھی واضح کیا گیا کہ ناقابلِ قبول ان پٹ ٹیکس کلیم اور کسی تعزیری جرم کا ارتکاب ایک ہی چیز نہیں ہیں؛ اگر محکمہ دھوکے یا دانستہ شرکت کا الزام عائد کرتا ہے تو اسے متعلقہ قانونی عناصر اور شواہد الگ سے ثابت کرنا ہوں گے۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق عدالت کے سامنے ایسا ثبوت نہیں تھا جس سے یہ ثابت ہو کہ ٹیکس دہندہ نے مبینہ اسکیم میں جان بوجھ کر یا دھوکہ دہی کے ساتھ حصہ لیا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ٹیکس دہندہ نے اپنے سپلائرز کے فعال رجسٹرڈ افراد ہونے کی تصدیق کی تھی، جبکہ صرف مفروضوں کی بنیاد پر ذمہ داری عائد نہیں کی جا سکتی۔

فیصلے میں ڈیفالٹ سرچارج کے قانونی پہلو پر بھی غور کیا گیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ متعلقہ دفعہ کے تحت سرچارج کے لیے نیت ثابت کرنا لازمی نہیں، لیکن بنیادی قانونی ڈیفالٹ اور اس کا درست حساب پھر بھی ثابت ہونا چاہیے۔ چونکہ زیرِ سماعت مقدمے میں محکمہ یہ بنیاد قائم نہ کر سکا، اس لیے سرچارج برقرار نہیں رہ سکا۔ یہ فیصلہ مخصوص مقدمے کے حقائق اور شواہد پر مبنی ہے اور اسے ہر ٹیکس تنازع پر خودکار طور پر لاگو نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔