کراچی: سندھ میں ایم پاکس کا ایک اور کیس سامنے آیا ہے، جس کے بعد صوبے میں 2026 کے دوران تصدیق شدہ کیسز کی مجموعی تعداد 43 ہوگئی۔ صحت حکام کے مطابق تازہ مریض کراچی کے شاہ فیصل کالونی کا رہائشی 35 سالہ شخص ہے جسے جسم پر دانے اور خارش نما علامات ظاہر ہونے کے بعد سندھ انسٹی ٹیوٹ آف انفیکشس ڈیزیز ہسپتال لایا گیا تھا۔
جیو نیوز کے مطابق ڈاکٹروں نے مریض کی علامات دیکھنے کے بعد ایم پاکس کا ٹیسٹ کرایا اور پی سی آر رپورٹ میں انفیکشن کی تصدیق ہوگئی۔ مریض اس وقت سندھ انفیکشس ڈیزیز ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ یہ کراچی میں دو روز کے دوران رپورٹ ہونے والا دوسرا ایم پاکس کیس ہے، جبکہ شہر میں رواں سال تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 15 تک پہنچ گئی ہے۔
صوبائی اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں 4 ستمبر تک 41 کیسز رپورٹ ہو چکے تھے۔ اس وقت ایک 19 سالہ نوجوان میں بھی جسم پر دانوں کے بعد پی سی آر ٹیسٹ کے ذریعے وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ تازہ کیس کے بعد صحت حکام نے ایک بار پھر قریبی رابطے، مشتبہ علامات اور بروقت تشخیص کی اہمیت پر توجہ دلائی ہے۔
پاکستان میں ایم پاکس کا پہلا تصدیق شدہ کیس اپریل 2023 میں سامنے آیا تھا، جب سعودی عرب سے آنے والے ایک مسافر میں انفیکشن کی تشخیص ہوئی۔ عالمی ادارہ صحت نے اگست 2024 میں ایم پاکس کے پھیلاؤ کو بین الاقوامی اہمیت کی صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال قرار دیا تھا۔ سندھ اور جنوبی پنجاب میں اپریل 2026 میں ایم پاکس کلیڈ 1 بی کی موجودگی بھی رپورٹ ہوئی تھی۔ یہ قسم بعض دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیلنے اور زیادہ شدید بیماری کا باعث بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ایم پاکس ایک وائرل بیماری ہے جو متاثرہ شخص سے قریبی جسمانی رابطے اور آلودہ اشیا، مثلاً بستروں، کپڑوں یا سوئیوں کے ذریعے منتقل ہو سکتی ہے۔ علامات میں بخار، سردی لگنا، تھکن، سر درد، پٹھوں میں کمزوری اور بعد میں دردناک یا خارش والے دانے شامل ہو سکتے ہیں۔ صحت حکام کے مطابق مشتبہ مریضوں کی بروقت جانچ، الگ نگہداشت اور قریبی رابطوں کی نگرانی وائرس کے مزید پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے اہم ہے۔




