اسلام آباد/بنو: پاکستان میں رواں سال پولیو کا چوتھا کیس خیبر پختونخوا کے ضلع بنو سے رپورٹ ہوا ہے۔ قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے انسداد پولیو (این ای او سی) کے مطابق متاثرہ بچہ تحصیل میریان کی یونین کونسل نورڑ کا رہائشی اور آٹھ ماہ کا ہے۔ اس نئے کیس کے بعد 2026 میں ملک بھر میں رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز کی تعداد چار ہو گئی ہے۔
این ای او سی کے مطابق رواں سال سامنے آنے والے چار کیسز میں سے تین جنوبی خیبر پختونخوا سے رپورٹ ہوئے ہیں، جہاں سکیورٹی سے متعلق رسائی کی مشکلات کے باعث بعض علاقوں میں ویکسینیشن ٹیمیں بچوں تک باقاعدگی سے نہیں پہنچ سکیں۔ حکام کے مطابق نورڑ یونین کونسل میں 2025 سے ٹیموں کی مسلسل رسائی متاثر رہی، جس سے کچھ بچے پولیو ویکسین کی ضروری خوراکوں سے محروم رہے۔
ڈان کے مطابق سرکاری پولیو پروگرام نے والدین اور نگہداشت کرنے والوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 21 سے 27 ستمبر تک ہونے والی آئندہ گھر گھر قومی مہم کے دوران اپنے بچوں کو لازمی ویکسین پلائیں اور بعد کی ہر مہم میں بھی ویکسینیشن کا سلسلہ جاری رکھیں۔ پروگرام کے مطابق اس مہم میں تقریباً 3 کروڑ 10 لاکھ بچوں تک پہنچنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جس میں جنوبی خیبر پختونخوا کے بچے بھی شامل ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 2025 کے دوران پولیو کے 31 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ این ای او سی کا کہنا ہے کہ 2025 کے بعد سے مجموعی طور پر وائرس کی ترسیل میں کمی آئی ہے، تاہم جنوبی خیبر پختونخوا میں اس کی موجودگی بدستور تشویش کا باعث ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ جہاں بچوں کی ویکسینیشن رہ جاتی ہے وہاں وائرس کو گردش جاری رکھنے کا موقع ملتا ہے، اس لیے نگرانی اور ویکسینیشن دونوں کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنا ضروری ہے۔
رواں سال کا پہلا کیس سندھ کے ضلع سجاول کی یونین کونسل بیلو میں ایک چار سالہ بچے میں سامنے آیا تھا، جبکہ دیگر کیسز بنو اور شمالی وزیرستان سے رپورٹ ہوئے۔ تازہ کیس نے ایک بار پھر جنوبی خیبر پختونخوا میں رسائی، سکیورٹی اور ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کے مسئلے کو نمایاں کیا ہے۔
پولیو ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو مستقل فالج کا سبب بن سکتی ہے، تاہم ویکسین کے ذریعے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔ حکام نے والدین پر زور دیا ہے کہ پولیو مہم کے دوران آنے والی ٹیموں سے تعاون کریں، کیونکہ وائرس کی مقامی گردش ختم کرنے کے لیے ہر بچے تک ویکسین پہنچنا بنیادی شرط ہے۔




