اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے مختلف شہروں میں بجلی کی بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی علاقے میں بجلی کی بندش دو گھنٹے سے زیادہ نہ ہونے دی جائے۔ یہ ہدایات ملک میں پاور لوڈ مینجمنٹ کے حوالے سے ایک جائزہ اجلاس کے دوران دی گئیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ خطے کی موجودہ صورتحال، آبنائے ہرمز سے متعلق کشیدگی اور ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی نقل و حمل میں مشکلات کے باعث بعض بجلی گھروں کو ایندھن کی فراہمی متاثر ہوئی، جس سے مجموعی پیداوار میں کمی آئی اور طلب و رسد کا توازن برقرار رکھنے کے لیے لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑی۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آر ایل این جی کی رسد میں رکاوٹ کے اثرات کم کرنے کے لیے فوری متبادل اقدامات کیے جائیں اور آنے والے دنوں کی ممکنہ ضروریات کو سامنے رکھ کر پیشگی منصوبہ بندی کی جائے۔ انہوں نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو صارفین کی شکایات کے ازالے کے لیے بھی زیادہ فعال نظام بنانے کی ہدایت کی۔

حکومتی مؤقف کے مطابق موجودہ لوڈشیڈنگ مستقل پیداواری خسارے کے بجائے علاقائی توانائی رسد میں پیدا ہونے والی غیر معمولی رکاوٹوں سے جڑی ہوئی ہے۔ تاہم شہریوں اور صنعتوں کے لیے طویل بندشیں پہلے ہی معاشی اور روزمرہ مسائل پیدا کر رہی ہیں، اس لیے دو گھنٹے کی حد پر عمل درآمد بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی عملی کارکردگی کا اہم امتحان ہوگا۔

پاکستان کا بجلی نظام گیس، آر ایل این جی، کوئلے، پن بجلی، جوہری اور قابل تجدید ذرائع کے امتزاج پر چلتا ہے۔ ایندھن کی درآمدی رسد میں اچانک خلل آنے کی صورت میں گیس پر چلنے والے بجلی گھروں کی پیداوار کم ہو سکتی ہے، جس کا فوری اثر لوڈ مینجمنٹ پر پڑتا ہے۔ حکومت نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی ہے کہ متبادل ایندھن اور دستیاب پیداواری صلاحیت کے بہتر استعمال پر توجہ دی جائے۔

وزیراعظم کی ہدایت کے بعد یہ واضح ہونا باقی ہے کہ دو گھنٹے کی حد تمام تقسیم کار کمپنیوں اور زیادہ لائن لاسز والے علاقوں میں کس طرح نافذ کی جائے گی۔ حکومت نے فی الحال ہدف مقرر کر دیا ہے، جبکہ عملی نتائج کا انحصار ایندھن کی دستیابی، طلب کے اتار چڑھاؤ اور بجلی کے ترسیلی و تقسیمی نظام کی استعداد پر ہوگا۔