مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر حکومت نے نیلم ویلی میں سیاحت کے فروغ کے لیے نئے تفریحی اور ایکو ٹورزم منصوبوں، ورثہ مقامات اور دیگر سیاحتی سہولیات کی ترقی کی تیاری شروع کر دی ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدامات حکومت کے 100 روزہ تبدیلی پروگرام کا حصہ ہیں اور ان کا مقصد خطے میں سیاحت کو زیادہ منظم، محفوظ اور پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھانا ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق سیکرٹری سیاحت، یوتھ اینڈ کلچر انصر یعقوب نے کیرن، شاردہ، اڑنگ کیل اور وادی کے بالائی علاقوں کے دیگر سیاحتی مقامات کا دورہ کر کے مجوزہ منصوبوں اور جاری سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ انہیں سیاحتی گاؤں کی منصوبہ بندی، تفریحی مقامات، ایکو ٹورزم سائٹس اور موجودہ سہولیات سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
حکام کے مطابق وادی میں نئے تفریحی و ایکو ٹورزم پارکس، تاریخی و ثقافتی ورثہ رکھنے والے مقامات اور بعض لیز پر دیے جانے والے مقامات کی نشاندہی کی جا چکی ہے، جبکہ مزید مقامات کو ترقیاتی منصوبوں میں شامل کرنے پر بھی غور جاری ہے۔ متعلقہ افسران کو کیرن، شاردہ، اڑنگ کیل اور دیگر علاقوں میں سیاحتی منصوبوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نیلم ویلی تقریباً 150 کلومیٹر طویل وادی ہے جو بلند پہاڑوں، جنگلات، آبشاروں، برفانی ندیوں اور متعدد ذیلی وادیوں کی وجہ سے ملک بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ مقامی ہوٹل، گیسٹ ہاؤس اور دیگر سیاحتی کاروبار ہزاروں افراد کے روزگار سے منسلک ہیں، اس لیے سیاحت میں بحالی اور بہتر انتظام مقامی معیشت کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران لائن آف کنٹرول پر کشیدگی، پاک بھارت فوجی تناؤ اور مقامی احتجاجی حالات کے باعث سیاحتی شعبے کو نقصان پہنچا۔ حکام نے متاثرہ کاروباروں اور سیاحت سے وابستہ افراد کے نقصانات، شکایات اور ممکنہ امدادی اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔
آزاد کشمیر حکومت نے وادی کے ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کو ایک مربوط فریم ورک میں لانے کا بھی ارادہ ظاہر کیا ہے تاکہ خدمات کے معیار، رجسٹریشن، سکیورٹی اور سیاحوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات میں بہتری لائی جا سکے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ترقی کے ساتھ ساتھ قدرتی ماحول اور مقامی ثقافتی ورثے کے تحفظ کو بھی اہمیت دی جائے گی، کیونکہ غیر منظم تعمیرات اور بڑھتے سیاحتی دباؤ سے وادی کے ماحولیاتی توازن پر اثر پڑ سکتا ہے۔




