اسلام آباد: وفاقی حکومت نے دارالحکومت کی پولیس اور دو اہم وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قیادت میں تبدیلیاں کرتے ہوئے کیپٹن (ر) محمد سہیل چوہدری کو انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس مقرر کر دیا ہے، جبکہ سید علی ناصر رضوی کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کا ڈائریکٹر جنرل تعینات کیا گیا ہے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشنز کے مطابق محمد سہیل چوہدری پولیس سروس آف پاکستان کے بی ایس 20 افسر ہیں اور اس وقت حکومت پنجاب کے تحت خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں سول سرونٹس ایکٹ 1973 کی دفعہ 10 کے تحت فوری طور پر اور تاحکم ثانی انسپکٹر جنرل، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری پولیس تعینات کیا گیا ہے۔ وہ سید علی ناصر رضوی کی جگہ لیں گے، جو اپریل 2024 سے وفاقی دارالحکومت کے پولیس سربراہ کے طور پر کام کر رہے تھے۔
ایک الگ نوٹیفکیشن کے مطابق سید علی ناصر رضوی، جو بھی پولیس سروس آف پاکستان کے بی ایس 20 افسر ہیں، کو وزارت داخلہ و انسداد منشیات کے تحت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ تقرری پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی متعلقہ شق، جس میں 2025 کی ترمیم بھی شامل ہے، اور سول سرونٹس ایکٹ کے تحت کی گئی ہے۔
اسی انتظامی ردوبدل میں پولیس سروس آف پاکستان کے بی ایس 21 افسر سید خرم علی کو نیشنل پولیس بیورو کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا ہے۔ وہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں تقرری کے منتظر تھے۔ نیشنل پولیس بیورو وفاقی سطح پر پولیس پالیسی، ادارہ جاتی رابطہ اور پیشہ ورانہ امور سے متعلق کردار ادا کرتا ہے۔
جیو نیوز کے مطابق سہیل چوہدری اس سے قبل پنجاب پولیس میں متعدد فیلڈ اور کمانڈ عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں، جن میں چیف ٹریفک آفیسر لاہور، سٹی پولیس آفیسر فیصل آباد، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور، ڈی آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور ریجنل پولیس آفیسر ملتان شامل ہیں۔ ان تقرریوں کے بعد اسلام آباد پولیس، این سی سی آئی اے اور نیشنل پولیس بیورو تینوں کو نئی قیادت مل گئی ہے۔




