کراچی: ضلع ملیر کے علاقے سکھن، بھینس کالونی روڈ نمبر پانچ پر ایک جنرل اور میڈیکل اسٹور میں ڈکیتی کے دوران درجنوں افراد سے نقدی اور دیگر سامان چھینے جانے کی اطلاع ہے۔ ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق 10 سے زائد مسلح افراد اسٹور میں داخل ہوئے اور وہاں موجود تقریباً 25 افراد کو لوٹنے کے بعد فرار ہوگئے۔ یہ تفصیلات مقامی نمائندے اور ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن کے صدر شاکر عمر گجر کے بیان پر مبنی ہیں۔
شاکر عمر گجر نے بتایا کہ واردات 30 اگست، اتوار کی شام مصطفیٰ جنرل اینڈ میڈیکل اسٹور پر ہوئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی، جس میں مسلح افراد کو اسٹور کے اندر لوٹ مار کرتے دیکھا گیا۔ دستیاب خبر میں کسی شخص کے زخمی یا جاں بحق ہونے کی اطلاع نہیں دی گئی، تاہم لوٹی گئی رقم اور سامان کی مکمل مالیت بھی بیان نہیں کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق چند روز قبل سکھن تھانے میں 100 کیمروں پر مشتمل کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کا افتتاح کیا گیا تھا۔ مقامی ایسوسی ایشن کے عہدیدار نے اس پس منظر میں علاقے کی امن و امان کی صورت حال پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ جرائم پیشہ عناصر پولیس اور نگرانی کے نظام سے خوفزدہ دکھائی نہیں دیتے۔ یہ ان کا مؤقف ہے؛ دستیاب رپورٹ میں پولیس کی جانب سے اس تنقید کا جواب شامل نہیں۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کسی واقعے کی ترتیب اور ملزمان کی شناخت میں مدد دے سکتی ہے، لیکن ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کو قانونی طور پر مجرم قرار دینا تفتیش اور عدالتی عمل کے بغیر درست نہیں۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مقدمہ کس دفعہ کے تحت درج ہوا، کتنے مشتبہ افراد کی شناخت ہوئی، کوئی گرفتاری عمل میں آئی یا لوٹا گیا سامان برآمد ہوا۔ ان امور پر قیاس آرائی سے گریز ضروری ہے۔
واقعہ ایک مصروف تجارتی مقام پر متعدد شہریوں کو بیک وقت نشانہ بنائے جانے کی رپورٹ ہونے کے باعث اہم ہے۔ دکانوں کے نگرانی کیمروں، قریبی راستوں اور ممکنہ گاڑیوں کی ریکارڈنگ کو ملا کر دیکھنا تفتیشی اداروں کا کام ہوگا۔ کسی کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کی افادیت کا حتمی اندازہ صرف ایک واقعے سے نہیں لگایا جاسکتا، مگر مقامی شہریوں کی تشویش کا جواب شفاف تفتیش اور قابلِ تصدیق پیش رفت سے دیا جاسکتا ہے۔
اگلی قابلِ تصدیق پیش رفت پولیس کی باضابطہ ایف آئی آر، گرفتاری، شناخت پریڈ، سامان کی برآمدگی یا عدالت میں پیشی سے متعلق ہوگی۔ اردو ہیڈ لائنز ملزمان سے متعلق ہر دعوے کو الزام یا تفتیشی پیش رفت کے طور پر ہی بیان کرے گا جب تک کوئی مجاز عدالت حتمی نتیجہ جاری نہ کرے۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




