مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے ضلع سدھنوتی کے صدر مقام پلندری میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے امن مارچ کیا اور پونچھ و سدھنوتی کے سات حلقوں میں جلد انتخابات کرانے، راستوں سے ناکہ بندیاں ہٹانے اور عوامی سہولتیں بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق مارچ پبلک الائنس فورم سدھنوتی کے زیر اہتمام کوٹلی چوک سے شروع ہوا اور مختلف سڑکوں سے گزرتا ہوا کچہری چوک میں عوامی اجتماع پر ختم ہوا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم کانفرنس، جمعیت علمائے اسلام، جموں و کشمیر پیپلز پارٹی، استحکام پاکستان پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے نمائندوں کے علاوہ تاجروں، وکلا، ٹرانسپورٹرز، سول سوسائٹی، اساتذہ اور سابق فوجیوں نے اجتماع سے خطاب کیا۔ شرکا نے مشترکہ اعلامیے میں کہا کہ حالیہ آزاد کشمیر انتخابات کے دوران امن و امان کی صورتحال کے باعث جن سات حلقوں میں ووٹنگ نہیں ہوسکی، وہاں انتخابی عمل جلد مکمل کیا جائے۔
آزاد کشمیر میں انتخابات پہلے 27 جولائی کو ہونا تھے، مگر سکیورٹی خدشات اور بدامنی کے دوران انہیں مرحلہ وار منعقد کیا گیا۔ ڈان کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی، دوسرے میں 2 اگست اور تیسرے میں 10 اگست کو پولنگ ہوئی۔ پونچھ ڈویژن کے بعض حلقوں میں امن و امان کے خدشات کے باعث ووٹنگ مؤخر رہی۔ امن مارچ کا مطالبہ انتخابی شیڈول کے اسی نامکمل حصے سے متعلق ہے؛ دستیاب رپورٹ میں نئی پولنگ کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
اعلامیے میں حکومت اور مظاہرین دونوں سے کہا گیا کہ آزاد کشمیر کے اندر اور پاکستان جانے والے داخلی راستوں پر ناکہ بندیاں ختم کی جائیں تاکہ سفر اور اشیائے ضروریہ کی فراہمی میں آسانی ہو۔ شرکا نے سدھنوتی اور پونچھ میں سفری و تعلیمی سہولتوں، پورے خطے میں انٹرنیٹ، خوراک، ایندھن اور دوسری بنیادی اشیا کی بلا تعطل فراہمی کا بھی مطالبہ کیا۔ یہ مارچ کے شرکا کے مطالبات ہیں، ان سب کی منظوری یا فوری نفاذ کا سرکاری اعلان نہیں۔
شرکا نے آٹے کی باقاعدہ تقسیم کے لیے فلور ملز کو گندم کی مناسب فراہمی، پیٹرول کی دستیابی اور بیرون ملک سفر کرنے والوں کے ضروری دستاویزات کی بروقت تکمیل پر بھی زور دیا۔ انہوں نے راولاکوٹ سے بعض تعلیمی یا انتظامی اداروں کی ممکنہ منتقلی سے متعلق افواہوں پر تشویش ظاہر کی۔ رپورٹ میں ایسی منتقلی کا کوئی باضابطہ حکومتی فیصلہ پیش نہیں کیا گیا، اس لیے اسے تصدیق شدہ منصوبہ نہیں سمجھا جاسکتا۔
ڈان کے مطابق حالیہ براہ راست انتخابات کی 38 نشستوں میں مسلم لیگ ن نے 25 اور پیپلز پارٹی نے 12 نشستیں حاصل کیں، جبکہ عوامی دست و بازو جماعت کے واحد منتخب رکن نے مسلم لیگ ن کا ساتھ دیا۔ مخصوص نشستوں میں مسلم لیگ ن نے چھ اور پیپلز پارٹی نے دو نشستیں حاصل کیں۔ پیپلز پارٹی نے انتخابی بے قاعدگیوں اور دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں؛ یہ جماعت کا الزام ہے، کسی عدالتی یا انتخابی تحقیق کا حتمی نتیجہ نہیں۔
مارچ پرامن سیاسی و شہری مطالبات کی ایک عوامی سرگرمی کے طور پر رپورٹ ہوا ہے۔ اگلی قابلِ تصدیق پیش رفت الیکشن کمیشن کی جانب سے باقی حلقوں کا شیڈول، حکومت کی طرف سے راستوں یا خدمات کی بحالی، یا شرکا کے مطالبات پر باضابطہ جواب ہوگا۔ اردو ہیڈ لائنز ایسے کسی اعلان کو اسی معاملے کی نئی پیش رفت کے طور پر رپورٹ کرے گا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




