کراچی: شہر میں دو روز کے دوران ایم پاکس کے دو نئے کیسز سامنے آنے کے بعد 2026 میں کراچی میں تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 15 ہو گئی ہے۔ سندھ کے صحت حکام کے مطابق دونوں مریضوں کی حالیہ بیرونِ ملک یا بین الاضلاعی سفری تاریخ سامنے نہیں آئی، اس لیے ان کیسز کو مقامی سطح پر منتقلی سے جوڑا جا رہا ہے۔

سندھ انفیکشس ڈیزیز ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر سے وابستہ حکام کے مطابق ایک 35 سالہ شخص، جو شاہ فیصل کالونی کا رہائشی ہے، جمعہ کو ایم پاکس کے لیے مثبت پایا گیا، جبکہ سرجانی ٹاؤن کے 45 سالہ رہائشی میں ایک روز پہلے وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ دونوں مریضوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان کی ایسی سفری تاریخ نہیں ملی جو انفیکشن کو بیرونِ شہر یا بیرونِ ملک سفر سے جوڑ سکے۔

صوبائی اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں رواں سال اب تک ایم پاکس کے 43 تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں سے 15 کراچی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عبد الواحد راجپوت نے بتایا کہ ادارے میں رواں سال 16 ایم پاکس مریض داخل کیے گئے، تاہم ان میں بعض دوسرے اضلاع کے رہائشی تھے، اسی لیے کراچی کے مصدقہ کیسز کی الگ تعداد 15 بتائی گئی ہے۔

ہسپتال کے مطابق 16 زیر علاج یا سابق مریضوں میں سے 12 کو علاج کے بعد فارغ کیا جا چکا ہے جبکہ چار مریض اب بھی داخل ہیں۔ حکام نے بتایا کہ تین مریضوں کی حالت مستحکم ہے، جبکہ ایک مریض پہلے سے پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا ہونے کے باعث زیادہ بیمار ہے۔ دستیاب معلومات میں کسی نئی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی۔

ایم پاکس ایک وائرل بیماری ہے جو انسانوں میں متاثرہ جانور یا دوسرے متاثرہ انسان کے ذریعے منتقل ہو سکتی ہے۔ اس کی علامات میں بخار، جسمانی درد، غدود کی سوجن اور جلد پر دردناک یا خارش والے دانے شامل ہو سکتے ہیں۔ بیماری کی شدت ہر مریض میں یکساں نہیں ہوتی، اس لیے تشخیص اور طبی نگرانی اہم سمجھی جاتی ہے۔

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز سے وابستہ مائیکرو بایولوجی اور مالیکیولر پیتھالوجی کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر سعید خان نے کہا کہ کراچی میں مسلسل نئے کیسز سامنے آنے سے نگرانی، جلد تشخیص اور منتقلی روکنے کے اقدامات کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ ان کے مطابق بچوں میں بیماری شدید شکل اختیار کر سکتی ہے جبکہ بالغ افراد میں بھی سنگین علامات پیدا ہونے کا امکان موجود رہتا ہے۔

حکام کی جانب سے دونوں نئے کیسز کو مقامی منتقلی سے جوڑنا اس لیے اہم ہے کہ یہ صورت حال صرف بیرونِ ملک سے آنے والے مسافروں کی سکریننگ تک محدود حکمتِ عملی کے بجائے مقامی رابطوں کی نگرانی اور آگاہی کی ضرورت کو نمایاں کرتی ہے۔ تاہم کسی بڑے پھیلاؤ یا ہنگامی صورتحال کا اعلان نہیں کیا گیا، اور موجودہ اعداد و شمار تصدیق شدہ کیسز تک محدود ہیں۔

صحت کے ماہرین کے مطابق شہریوں کو غیر معمولی جلدی دانوں، بخار یا دیگر متعلقہ علامات کی صورت میں طبی مشورہ لینا چاہیے اور متاثرہ افراد کے قریب جسمانی رابطے سے احتیاط کرنی چاہیے۔ نئے کیسز کے بعد کراچی اور سندھ میں بیماری کی نگرانی کے نظام کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔