لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں پانچ روز کے لیے عوامی اجتماعات، جلوسوں اور مظاہروں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اقدام قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے ممکنہ دہشت گردی کے خطرات سے متعلق موصول ہونے والی اطلاعات کے بعد کیا گیا ہے۔ حکام نے ان خدشات کو سکیورٹی الرٹس سے منسوب کیا ہے؛ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق خبر کے دستیاب ذرائع سے ممکن نہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کسی عوامی مقام، سڑک، شاہراہ یا کھلی جگہ پر پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع، جلوس یا مظاہرے پر پابندی ہوگی۔ صوبائی حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ عوامی مقامات پر اسلحہ لے جانے، دکھانے یا لہرانے کی اجازت نہیں ہوگی، البتہ قانون نافذ کرنے والے، انٹیلی جنس اور سکیورٹی اداروں کے اہلکار سرکاری ڈیوٹی کے دوران اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

محکمہ داخلہ نے نوٹیفکیشن میں کہا کہ متعلقہ اداروں سے ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن کے مطابق شدت پسند عناصر خودکش حملہ آوروں، گاڑی میں نصب دھماکا خیز مواد یا ہدفی حملوں کے ذریعے بڑے عوامی اجتماعات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ صوبائی حکومت نے اسی بنیاد پر بڑے اجتماعات کو ممکنہ طور پر زیادہ خطرے والے مقامات قرار دیا ہے۔ یہ سکیورٹی خدشات سرکاری موقف ہیں اور ان کی نوعیت پیشگی انٹیلی جنس پر مبنی ہے، نہ کہ کسی تصدیق شدہ حملے کے وقوع پذیر ہونے پر۔

پابندی سے کچھ سرگرمیوں کو استثنا دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق شادی کی تقریبات، جنازے اور تدفین، عبادت گاہوں میں مذہبی رسومات، عدالتی امور اور سرکاری و نیم سرکاری اداروں کی ضروری ڈیوٹی اس حکم کے دائرے سے باہر رہیں گی۔ اس طرح حکم کا بنیادی ہدف سیاسی، احتجاجی یا دیگر بڑے عوامی اجتماعات ہیں جو کھلے مقامات یا شاہراہوں پر منعقد ہوں۔

یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس کا مجوزہ مارچ پُرامن ہوگا اور اسے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی سمیت اپنے سیاسی مطالبات کے لیے منظم کیا جا رہا ہے۔ حکومت ماضی میں پی ٹی آئی کے بعض احتجاجی مظاہروں میں تشدد اور سرکاری اہلکاروں پر حملوں کے الزامات عائد کرتی رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔

موجودہ پابندی پانچ دن کے لیے ہے اور اس کی قانونی و انتظامی عملداری پنجاب کے تمام متعلقہ اضلاع تک ہوگی۔ اس دوران ضلعی انتظامیہ اور پولیس پر ذمہ داری ہوگی کہ وہ نوٹیفکیشن کے نفاذ، مستثنیٰ سرگرمیوں کی وضاحت اور ممکنہ خلاف ورزیوں کے بارے میں یکساں ہدایات جاری کریں۔ دستیاب نوٹیفکیشن میں یہ نہیں کہا گیا کہ 27 ستمبر کا مجوزہ مارچ خود بخود منسوخ ہو گیا ہے، کیونکہ پابندی کی موجودہ مدت اس تاریخ سے پہلے ختم ہونے والی ہے، البتہ حکومت مستقبل میں سکیورٹی صورتحال کے مطابق نئے احکامات جاری کر سکتی ہے۔

صوبائی حکومت نے فیصلے کو امن و امان کے تحفظ کے لیے احتیاطی قدم قرار دیا ہے۔ اس اقدام کے اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پابندی کو کس حد تک یکساں اور قانون کے مطابق نافذ کیا جاتا ہے اور سیاسی جماعتوں، شہریوں اور انتظامیہ کے درمیان اجتماعات سے متعلق معاملات کیسے طے ہوتے ہیں۔