پشاور/کوہاٹ: خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پولیس لائنز کو 18 ستمبر کو ایک بڑے حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس میں پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ ذوالفقار حمید نے ابتدائی طور پر بتایا کہ بارود سے بھری ایک گاڑی پولیس لائنز کے داخلی حصے سے ٹکرائی، جس کے بعد مسلح حملہ آوروں نے کمپاؤنڈ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔

پولیس حکام کے مطابق حملے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور پولیس نے علاقے میں کلیئرنس آپریشن شروع کیا۔ حکام نے مختلف اوقات میں ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار جاری کیے، جو آپریشن اور طبی امداد جاری رہنے کے باعث تبدیل ہوتے رہے۔ ڈان کی ابتدائی رپورٹ میں پانچ پولیس اہلکاروں سمیت 16 افراد کے جاں بحق اور 50 سے زیادہ کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی، جبکہ بعد کی تازہ کاریوں میں جانی نقصان میں اضافے کی اطلاع دی گئی۔ اس لیے حتمی تعداد متعلقہ حکام کی مکمل تصدیق سے مشروط ہے۔

پولیس کے مطابق سات حملہ آوروں نے پولیس لائنز میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ ایک خودکش حملہ آور کے دھماکے کے بعد دیگر حملہ آور مختلف عمارتوں کی طرف بڑھے، جن میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور اسپیشل برانچ سے متعلق حصے شامل تھے۔ پولیس نے بتایا کہ کلیئرنس آپریشن کے دوران متعدد حملہ آور مارے گئے اور آپریشن آخری مراحل تک جاری رہا۔ حملے کی ذمہ داری حافظ گل بہادر سے منسلک اتحاد المجاہدین نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا، تاہم ایسے دعووں کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر ممکن نہیں ہوتی۔

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کی اور زخمیوں کو فوری طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بھی حملے کی مذمت کی۔ وزیراعظم نے متعلقہ اداروں سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت کی۔

کوہاٹ پولیس لائنز ماضی میں بھی دہشت گردی کا نشانہ بن چکی ہے۔ موجودہ واقعے کے بعد پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں نے کمپاؤنڈ اور اطراف کے علاقے کو محفوظ بنانے، شواہد اکٹھے کرنے اور حملے کے طریقہ کار اور سہولت کاروں سے متعلق تحقیقات شروع کر دیں۔ واقعے سے متعلق مزید تفصیلات سرکاری تحقیقات اور حکام کی آئندہ بریفنگز کے بعد واضح ہونے کی توقع ہے۔