کوہاٹ میں اولڈ پولیس لائنز کے احاطے میں جمعہ 18 ستمبر کو ہونے والے شدید حملے میں کم از کم 21 افراد شہید اور 57 زخمی ہوئے۔ خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق شہدا میں 15 پولیس اہلکار اور چھ شہری شامل ہیں۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیس لائنز کی مسجد میں جمعہ کی نماز جاری تھی۔ ابتدائی دھماکے کے بعد حملہ آوروں نے پولیس تنصیبات میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس پر پولیس اور انسداد دہشت گردی کے اہلکاروں نے کارروائی شروع کی۔

پولیس حکام کے مطابق ایک حملہ آور نے اسپیشل برانچ کی عمارت کے قریب بارودی مواد سے خود کو اڑایا، جبکہ اس کے بعد فائرنگ اور مزید دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ پولیس نے بتایا کہ مشترکہ کلیئرنس آپریشن کے دوران تمام سات حملہ آور مارے گئے۔ حکام نے علاقے کو سیل کر کے سرچ آپریشن جاری رکھا تاکہ کسی مزید خطرے کو ختم کیا جا سکے اور حملے کی نوعیت و طریقہ کار کے بارے میں شواہد جمع کیے جا سکیں۔

ریسکیو 1122 کے مطابق کارروائی میں 60 سے زیادہ امدادی اہلکار، 22 ایمبولینسیں اور دیگر ریسکیو گاڑیاں استعمال کی گئیں۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے سی ایم ایچ کوہاٹ منتقل کیا گیا۔ جائے وقوع سے سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں عمارت اور چار دیواری کو پہنچنے والا نقصان اور امدادی سرگرمیاں دیکھی گئیں۔ حکام نے زخمیوں کے علاج کے لیے متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کی ہدایت کی۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام سے واقعے کی نوعیت اور اسباب کے بارے میں رپورٹ طلب کی اور امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت دی۔ وزارت داخلہ نے بھی کہا کہ دہشت گردی کے ایسے واقعات ریاست کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔

حملے کی ذمہ داری کے بارے میں سرکاری طور پر کسی حتمی نتیجے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ بزنس ریکارڈر نے رپورٹ کیا کہ تحریک طالبان پاکستان نے ایک بیان میں واقعے سے لاتعلقی ظاہر کی۔ اس دعوے کو حملے کی آزادانہ ذمہ داری کے تعین کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا اور تفتیشی اداروں کی تحقیقات جاری ہیں۔ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں پولیس اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کے باعث سکیورٹی خدشات برقرار ہیں۔