اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی فیول ریلیف اسکیم کا دائرہ بڑھاتے ہوئے 20 سال تک پرانی موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چنگ چی گاڑیوں کو بھی رجسٹریشن کے لیے اہل بنانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق یکم جنوری 2006 کے بعد رجسٹرڈ متعلقہ دو اور تین پہیوں والی گاڑیاں اسکیم میں شامل ہو سکیں گی۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت ایندھن کی بلند قیمتوں کے اثرات محدود آمدنی والے صارفین پر کم کرنے کے لیے ہدفی ریلیف پروگرام پر عمل کر رہی ہے۔
ڈان کے مطابق وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ اہل گاڑیوں کے مالکان کی رجسٹریشن میں عمر کی سابقہ حد کے باعث پیدا ہونے والی رکاوٹ دور کی جائے۔ اس توسیع کا مقصد ان شہریوں کو بھی پروگرام تک رسائی دینا ہے جو نسبتاً پرانی موٹر سائیکل، رکشہ یا چنگ چی استعمال کرتے ہیں اور روزمرہ سفر یا روزگار کے لیے ان گاڑیوں پر انحصار کرتے ہیں۔
وفاقی فیول ریلیف اسکیم کے تحت دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے ایندھن پر مخصوص مقدار تک رعایت فراہم کرنے کا نظام وضع کیا گیا ہے۔ سندھ کابینہ کو دی گئی ایک سرکاری بریفنگ کے مطابق اسکیم میں دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے فی لیٹر 100 روپے تک ریلیف، ہفتہ وار اور ماہانہ مقدار کی حدود کے ساتھ، تجویز کیا گیا تھا۔ رجسٹریشن اور رعایت کے حصول کے لیے ڈیجیٹل تصدیق اور فیول پاس نظام استعمال کیا جا رہا ہے۔ عملی اہلیت اور ادائیگی کا انحصار سرکاری ریکارڈ میں گاڑی اور مالک کی تصدیق پر ہوگا۔
تازہ ہدایت خاص طور پر ان گاڑی مالکان کے لیے اہم ہے جن کی موٹر سائیکل یا رکشہ کئی برس پرانا ہے مگر اب بھی باقاعدہ رجسٹرڈ اور استعمال میں ہے۔ وزیراعظم آفس نے کہا کہ یکم جنوری 2006 کے بعد رجسٹرڈ موٹر سائیکلیں، رکشے اور چنگ چی اہل ہوں گے۔ اس سے پروگرام کے ممکنہ مستفید افراد کی تعداد بڑھ سکتی ہے، تاہم حکومت نے اس اعلان کے ساتھ اضافی مالی بوجھ یا نئے مستفید افراد کی حتمی تعداد فوری طور پر جاری نہیں کی۔
اسکیم کی توسیع کے بعد متعلقہ وفاقی اداروں کو رجسٹریشن ڈیٹا، شناختی معلومات اور گاڑیوں کے ریکارڈ کے درمیان مطابقت یقینی بنانا ہوگی تاکہ رعایت صرف اہل صارفین تک پہنچے۔ حکومت کی جانب سے مزید طریقہ کار، رجسٹریشن کی آخری تاریخ یا تکنیکی شرائط میں تبدیلی کی صورت میں وہ تفصیلات سرکاری اعلانات سے واضح ہوں گی۔ فی الحال بنیادی تبدیلی یہ ہے کہ 2006 کے آغاز کے بعد رجسٹرڈ 20 سال تک پرانی موٹر سائیکلیں اور تین پہیوں والی گاڑیاں بھی اسکیم کی اہلیت میں شامل کر دی گئی ہیں۔
