اسلام آباد: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وفاقی حکام سے صوبے کے اہم شہروں کے لیے فضائی رابطہ بحال اور بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے، جس میں چترال، پاراچنار اور ڈیرہ اسماعیل خان کے لیے پروازوں کے آغاز اور ڈی آئی خان کے نئے گرین فیلڈ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کام تیز کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ انہوں نے یہ مطالبات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس میں کیے جس کی صدارت سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق گورنر نے کمیٹی کو بتایا کہ خیبر پختونخوا کے کئی بڑے شہر مستقل فضائی رابطے سے محروم ہیں اور بہتر پروازیں سیاحت، تجارت اور صوبائی معاشی سرگرمیوں کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے چترال، پاراچنار اور ڈیرہ اسماعیل خان کے لیے پروازیں فوری شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

گورنر کے مطابق نجی فضائی کمپنی ساؤتھ ایئر نے حال ہی میں پشاور اور کوئٹہ کے درمیان پروازیں شروع کی ہیں، جبکہ کاروباری حلقے پشاور اور لاہور کے درمیان براہ راست فضائی رابطہ بھی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں فضائی سفر کے محدود آپشنز نہ صرف مسافروں کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں بلکہ کاروباری آمدورفت اور سیاحتی سرگرمیوں کو بھی محدود کرتے ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے موجودہ ایئرپورٹ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اسے بلا تاخیر فعال کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق موجودہ رن وے اے ٹی آر طیاروں کے لیے بھی موزوں نہیں، جس کی وجہ سے باقاعدہ فضائی آپریشن محدود ہیں۔ انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 11 ستمبر کے واقعات سے پہلے ڈی آئی خان کے لیے ہفتہ وار متعدد پروازیں چلتی تھیں۔

گورنر نے زیر تعمیر گرین فیلڈ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بھی صوبے کی طویل مدتی فضائی حکمت عملی کے لیے اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے راستے کے قریب واقع ہے اور مستقبل میں جنوبی اضلاع کے ساتھ ساتھ پشاور ایئرپورٹ کے متبادل یا معاون مرکز کے طور پر بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔

کمیٹی کے اجلاس میں اٹھائے گئے نکات فی الحال مطالبات اور پالیسی تجاویز ہیں؛ اے پی پی کی رپورٹ میں کسی نئی پرواز کے فوری سرکاری شیڈول، ایئر لائن معاہدے یا گرین فیلڈ ایئرپورٹ کی تکمیل کی نئی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ آئندہ پیش رفت متعلقہ ایوی ایشن حکام، فضائی کمپنیوں اور ترقیاتی اداروں کے فیصلوں پر منحصر ہوگی۔