پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی کے ہنگامی اجلاس میں صوبائی وزیر فضل شکور کے مبینہ اغوا اور ایک دوسرے صوبائی وزیر شکیل خان پر حملے کے معاملے پر شدید بحث ہوئی۔ حکومتی ارکان نے ان واقعات پر تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کیا، جبکہ اسپیکر بابر سلیم سواتی نے صوبے میں وفاق سے ڈیپوٹیشن پر تعینات افسران کے لیے وفاداری کے حلف کی قانونی شق شامل کرنے کی تجویز دی۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے ایوان کو بتایا کہ شکیل خان کو ایک روز قبل نشانہ بنایا گیا اور بعد میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی، جبکہ فضل شکور کو ان کے بقول دن دہاڑے پشاور ٹول پلازہ سے اٹھایا گیا۔ یہ اغوا سے متعلق صوبائی حکام کا الزام ہے اور واقعے کے ذمہ داروں کے بارے میں حتمی نتیجہ تحقیقات کے بعد ہی سامنے آ سکتا ہے۔

اجلاس میں صوبائی حکومت کے ارکان نے اسلام آباد سے رکن صوبائی اسمبلی فتح الملک کو مبینہ طور پر اٹھائے جانے کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ پارٹی اور صوبائی حکومت پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ ان سیاسی دعوؤں کو حکومتی ارکان کے موقف کے طور پر رپورٹ کیا گیا ہے؛ متعلقہ وفاقی یا سکیورٹی اداروں کا تفصیلی جواب رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔

اسپیکر بابر سلیم سواتی نے ایڈووکیٹ جنرل سے پوچھا کہ کیا پولیس ایکٹ 2017 میں ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کے لیے صوبے سے وفاداری کا کوئی مخصوص حلف موجود ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ ایسی شق موجود نہیں، جس پر اسپیکر نے اسے قانون میں شامل کرنے پر زور دیا۔ کسی نئی قانونی ترمیم کی منظوری اس اجلاس میں رپورٹ نہیں ہوئی، اس لیے یہ فی الحال اسپیکر کی تجویز اور ہدایت کی سطح پر ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ طارق سعید نے ایوان کو بتایا کہ انہوں نے انسپکٹر جنرل پولیس کو شکیل خان کے واقعے کی تحقیقات اور فضل شکور کے مبینہ اغوا کے بارے میں ایف آئی آر کے اندراج کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اسپیکر کی ہدایت پر صوبائی وزیر داخلہ کی نگرانی میں ایک کمیٹی کو شفاف تحقیقات کی نگرانی کی ذمہ داری دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں 27 ستمبر کے پی ٹی آئی احتجاج کا پس منظر بھی زیر بحث آیا۔ حکومتی ارکان نے الزام لگایا کہ گرفتاریاں، مقدمات اور پارٹی بینرز ہٹانے کے اقدامات احتجاج کو متاثر کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ وزیر قانون نے کہا کہ احتجاج پُرامن رکھنے کا ارادہ ہے۔ یہ سیاسی موقف ہے اور اس کے مقابل وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے امن و امان اور قانونی پابندیوں کو اپنے اقدامات کی وجہ قرار دیتے رہے ہیں۔

تازہ پیش رفت کا قابل تصدیق حصہ یہ ہے کہ صوبائی اسمبلی نے دونوں واقعات پر بحث کی، تحقیقات کے لیے اقدامات کا اعلان ہوا اور پولیس و انتظامی افسران کی ذمہ داری کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے۔ فضل شکور کے مبینہ اغوا اور شکیل خان کے واقعے کی مکمل حقیقت، ذمہ داری اور قانونی نتائج تحقیقات کے بعد واضح ہوں گے۔