اسلام آباد: خیبرپختونخوا حکومت نے سوات دریا پر مجوزہ چار پن بجلی منصوبوں کو انڈیکیٹو جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان 2025-35 سے خارج کیے جانے کے معاملے پر مشترکہ مفادات کونسل سے رجوع کیا ہے۔ صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ ان منصوبوں کو پہلے قومی بجلی منصوبہ بندی کے فریم ورک میں شامل کیا گیا تھا اور بعد میں صوبے سے مطلوبہ مشاورت کے بغیر نکالنا سابقہ فیصلوں اور صوبائی اختیارات سے متعلق سوالات پیدا کرتا ہے۔

مشترکہ مفادات کونسل کے لیے تیار کردہ صوبائی سمری میں چار منصوبوں کی قومی جنریشن پلان میں بحالی، 2021 میں کونسل کی جانب سے منظور کیے گئے معیار اور مفروضوں کی دوبارہ توثیق اور آئین کے آرٹیکل 157(3) کے تحت وفاق اور صوبے کے درمیان تنازع کے حل کی درخواست کی گئی ہے۔ بین الصوبائی رابطہ محکمے نے پاور ڈویژن اور پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے چیف سیکریٹریز سے بھی متعلقہ قواعد کے تحت رائے طلب کی ہے۔

زیر بحث منصوبوں میں پیڈو کا 207 میگاواٹ مدین ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، 94.96 میگاواٹ گبرال کالام منصوبہ، 238.2 میگاواٹ کالام اشریت منصوبہ اور 229.4 میگاواٹ اشریت کیدام منصوبہ شامل ہیں۔ ان چاروں کی مجموعی مجوزہ پیداواری صلاحیت تقریباً 769.56 میگاواٹ بنتی ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق یہ منصوبے آئی جی سی ای پی 2021-31 میں مشترکہ مفادات کونسل کے نومبر 2021 کے فیصلوں کے تحت شامل کیے گئے تھے۔

خیبرپختونخوا کا کہنا ہے کہ انہی سابقہ منظوریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبوں کی ترقی، فنانسنگ اور بجلی کی ترسیل و اخراج کے بنیادی ڈھانچے پر پیش رفت کی گئی۔ صوبے نے الزام عائد کیا ہے کہ آئی جی سی ای پی 2025-35 میں منصوبوں کو خارج کرنے سے پہلے مطلوبہ مشاورت نہیں کی گئی۔ یہ صوبائی حکومت کا مؤقف ہے؛ حتمی آئینی یا قانونی نتیجہ مشترکہ مفادات کونسل یا متعلقہ قانونی فورم کے فیصلے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

صوبائی سمری میں قومی بجلی پالیسی 2021 اور آئین کے آرٹیکل 157 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بجلی سے متعلق وفاقی اور صوبائی اختیارات کے درمیان تنازع کے حل کے لیے مشترکہ مفادات کونسل موزوں آئینی فورم ہے۔ اب معاملہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اس بات پر بحث کا باعث بنے گا کہ قومی بجلی پیداواری منصوبہ بندی میں صوبائی منصوبوں کے انتخاب، کم لاگت بجلی کے معیار اور پہلے سے منظور شدہ مفروضوں کو کس طرح لاگو کیا جائے۔