مسلسل اپ ڈیٹس

سوات کے چار پن بجلی منصوبوں کا وفاقی‑صوبائی تنازع

خیبرپختونخوا حکومت نے سوات دریا پر مجوزہ چار پن (run‑of‑river) بجلی منصوبوں — مدین (207 میگاواٹ)، گبرال‑کالام (94.96 میگاواٹ)، کالام‑اسریت (238.2 میگاواٹ) اور اسریت‑کیدام (229.4 میگاواٹ) — جن کی مجموعی مجوزہ صلاحیت تقریباً 769.56 میگاواٹ بنتی ہے، کو انڈیکیٹو جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان (IGCEP) 2025‑35 سے خارج کیے جانے کے خلاف آئین کے آرٹیکل 157(3) کے تحت مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے سامنے ازالے کے لیے پیش کردیا ہے۔ صوبائی موقف ہے کہ یہ منصوبے پہلے کے IGCEP/سی سی آئی فیصلوں میں شامل تھے اور انہیں مناسب مشاورت کے بغیر نکالا گیا؛ صوبہ منصوبوں کی بحالی، 2021 میں منظور شدہ معیار و مفروضات کی توثیق اور مشاورتی عمل کے فقدان کی بنیاد پر سی سی آئی سے مداخلت چاہتا ہے۔ معاملے پر وفاقی اداروں اور دیگر صوبوں سے رائے طلب کر لی گئی ہے اور سی سی آئی نے ابھی حتمی فیصلہ جاری نہیں کیا؛ آئینی/قانونی نتیجہ سی سی آئی یا متعلقہ فورم کے فیصلے کے بعد سامنے آئے گا۔ منصوبوں کی عملی تعمیر بعد ازاں مالی، تکنیکی، ترسیلی اور ریگولیٹری منظوریوں پر منحصر ہے۔

2 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

سوات کے چار پن بجلی منصوبوں کا وفاقی‑صوبائی تنازع | اردو ہیڈ لائنز