اسلام آباد: خیبر پختونخوا حکومت نے سوات دریا پر مجوزہ چار پن بجلی منصوبوں کو انڈیکیٹو جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان 2025-35 سے خارج کیے جانے پر وفاق کے ساتھ تنازع مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے سامنے لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق صوبائی حکومت نے 29 ستمبر 2026 کے خط میں سی سی آئی سے آئین کے آرٹیکل 157(3) کے تحت معاملہ حل کرنے، منصوبوں کو قومی پیداواری منصوبے میں بحال کرنے اور 2021 میں منظور شدہ معیار و مفروضات پر دوبارہ غور کی درخواست کی۔
تنازع چار منصوبوں سے متعلق ہے: 207 میگاواٹ کا مدین ہائیڈرو پاور پروجیکٹ، 94.96 میگاواٹ کا گبرال-کالام منصوبہ، 238.2 میگاواٹ کا کالام-اسریت منصوبہ اور 229.4 میگاواٹ کا اسریت-کیدام منصوبہ۔ ان چاروں کی مجموعی مجوزہ صلاحیت تقریباً 769.56 میگاواٹ بنتی ہے۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے سابقہ آئی جی سی ای پی 2021-31 میں سی سی آئی کے 2021 کے فیصلوں کے تحت شامل تھے اور صوبے نے اسی بنیاد پر ترقیاتی اور مالی انتظامات آگے بڑھائے۔
خیبر پختونخوا کا مؤقف ہے کہ نئے آئی جی سی ای پی 2025-35 میں منصوبوں کو صوبائی حکومت سے مناسب مشاورت کے بغیر نکالا گیا اور یہ سابقہ سی سی آئی معیار اور قومی بجلی پالیسی کے مشاورتی اصولوں کے خلاف ہے۔ یہ صوبائی حکومت کا آئینی اور پالیسی مؤقف ہے؛ ابھی سی سی آئی نے اس دعوے پر حتمی فیصلہ نہیں دیا۔ بین الصوبائی رابطہ محکمے نے پاور ڈویژن اور پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے چیف سیکریٹریز سے مسودہ سمری پر دو ہفتوں میں رائے بھی طلب کی ہے۔
معاملہ قومی بجلی منصوبہ بندی میں صوبائی پن بجلی منصوبوں کی حیثیت، کم لاگت پیداوار کے معیار اور وفاق و صوبوں کے مشاورتی کردار سے متعلق اہم سوال اٹھاتا ہے۔ اگر سی سی آئی منصوبوں کی بحالی کی ہدایت دیتی ہے تو انہیں مستقبل کی قومی پیداواری منصوبہ بندی میں دوبارہ جگہ مل سکتی ہے، لیکن اس مرحلے پر یہ صرف صوبائی درخواست ہے، حتمی منظوری نہیں۔ منصوبوں کی عملی تعمیر بھی مالی بندوبست، تکنیکی منظوری، ترسیلی ڈھانچے اور دیگر ریگولیٹری مراحل سے مشروط رہے گی۔

