اسلام آباد: اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) نے کیلنڈر سال 2027 کے لیے صارفین کے اختتامی ٹیرف میں 54 فیصد سے زائد اضافے کی درخواست کی ہے۔ کمپنی نے موجودہ 28 روپے 20 پیسے فی کلوواٹ آور کے مقابلے میں 43 روپے 54 پیسے فی یونٹ ٹیرف تجویز کیا ہے۔ یہ درخواست نیپرا کی عوامی سماعت میں سامنے آئی اور ابھی حتمی منظور شدہ ٹیرف نہیں ہے۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق آئیسکو حکومت کے نجکاری پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل تقسیم کار کمپنیوں میں ہے۔ کمپنی کی انتظامیہ نے نیپرا کو بتایا کہ 2025-26 کے دوران اسے اربوں روپے کے نقصانات ہوئے اور نجکاری سے پہلے مالیاتی پوزیشن بہتر بنانے کے لیے مختلف ایڈجسٹمنٹس درکار ہیں۔ آئیسکو نے 157.864 ارب روپے کی prior year adjustment بھی مانگی ہے، جس میں مختلف سابقہ واجبات اور آزاد جموں و کشمیر کو نسبتاً کم نرخ پر بجلی کی فراہمی سے متعلق مالی اثرات شامل بتائے گئے ہیں۔

کمپنی کے مطابق اس کی تقریباً 17 فیصد بجلی کی فراہمی آزاد جموں و کشمیر سے منسلک ہے۔ نجکاری کمیشن نے کمپنی کی بیلنس شیٹ بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے، تاہم نیپرا نے سماعت کے دوران مجوزہ طریقہ کار اور مالی بوجھ سے متعلق سوالات اٹھائے۔ اسی سماعت میں حیسکو اور سیپکو کی ٹیرف درخواستوں کا بھی جائزہ لیا گیا اور خاص طور پر سیپکو کی کم وصولیوں اور ترسیلی و تقسیمی نقصانات پر ریگولیٹر نے تشویش ظاہر کی۔

آئیسکو کی درخواست کا مطلب یہ نہیں کہ صارفین کے بل فوری طور پر 43.54 روپے فی یونٹ کی بنیاد پر بننا شروع ہوگئے ہیں۔ نیپرا درخواست، لاگت، سابقہ ایڈجسٹمنٹس اور کمپنی کے مفروضات کی جانچ کے بعد فیصلہ کرے گا۔ ٹیرف کے حتمی اثر میں حکومتی پالیسی، سبسڈی، یکساں قومی ٹیرف اور دیگر ایڈجسٹمنٹس بھی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس لیے موجودہ مرحلے پر درست بات یہ ہے کہ آئیسکو نے بڑا اضافہ مانگا ہے، جبکہ اس کی منظوری، مقدار اور صارفین پر حتمی اثر ابھی ریگولیٹری فیصلے سے مشروط ہے۔