اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے سرکاری اداروں کی پیدا کردہ مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی نیلامی کو موجودہ صورت میں آگے بڑھانے کی تجویز مسترد کردی ہے۔ ڈان کے مطابق وزیراعظم نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی لین دین سے پہلے جامع پالیسی تبدیلی، قانونی بنیاد اور ریگولیٹری فریم ورک موجود ہونا چاہیے تاکہ بعد میں غیر ضروری تنازعات پیدا نہ ہوں۔ انہوں نے عبوری انتظامات کی منظوری بھی نہیں دی۔
اس فیصلے کے نتیجے میں تین بڑے سرکاری ایل پی جی پروڈیوسرز کی جانب سے 10 اگست کو بیک وقت کی گئی نیلامیوں کے نتائج آگے نہیں بڑھیں گے۔ رپورٹ کے مطابق مجوزہ نظام مقامی طور پر پیدا ہونے والی ایل پی جی کی پروڈیوسر قیمت کو درآمدی برابری کی قیمت سے جوڑتا اور مارکیٹنگ کمپنیوں و ڈسٹری بیوٹرز کے مارجن میں اضافہ کرتا۔ حکام کا اندازہ تھا کہ بولی کے نتائج کی منظوری سے ایل پی جی قیمت میں کم از کم 15 فیصد اضافہ ہو سکتا تھا، جو سردیوں میں پہلے سے بڑھنے والے نرخوں کے علاوہ ہوتا۔
رپورٹ میں ممکنہ خالص اثر تقریباً 77 ہزار روپے فی ٹن، یا 11.8 کلوگرام کے گھریلو سلنڈر پر لگ بھگ 900 روپے بتایا گیا۔ یہ ایک تخمینہ تھا، نافذ شدہ اضافہ نہیں، کیونکہ وزیراعظم نے نیلامی کے نتائج کی منظوری نہیں دی۔ موجودہ مارکیٹ میں ایل پی جی کی دستیابی پر بھی دباؤ ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے درآمدات کو متاثر کیا اور عمان ایک اہم متبادل ذریعہ بن گیا۔ پٹرولیم ڈویژن کی درخواست پر وزارت خارجہ نے عمانی سرکاری سپلائر سے کارگو کے لیے رابطہ بھی کیا۔
ڈان کے مطابق بعض مقامات پر گھریلو سلنڈر اوگرا کی مقررہ زیادہ سے زیادہ قیمت سے نمایاں مہنگا فروخت ہو رہا ہے، جس کی بڑی وجہ سپلائی کی کمی بتائی گئی۔ وزیراعظم کا موجودہ فیصلہ ایل پی جی مارکیٹ کے لیے حتمی نئی قیمت پالیسی نہیں بلکہ مجوزہ نیلامی طریقہ کار کو قانونی اور پالیسی بنیاد کے بغیر منظور نہ کرنے کا فیصلہ ہے۔ اب اگلا مرحلہ یہ ہوگا کہ حکومت اگر نیلامی یا قیمت سازی کا نیا نظام لانا چاہتی ہے تو اس کے لیے واضح قانونی، ریگولیٹری اور پالیسی فریم ورک تیار کرے۔

