اسلام آباد: شاہین انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ اور چین کی اینٹن آئل فیلڈ سروسز گروپ نے پاکستان کے گیس شعبے میں سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ کمپنی کے بیان کے مطابق دونوں ادارے آئندہ تین سے پانچ سال کے دوران تقریباً 20 ارب روپے کے ممکنہ سرمایہ کاری پروگرام پر کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کا مرکز ملکی گیس مارکیٹ اور اپ اسٹریم گیس شعبے کے انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اور کنسٹرکشن منصوبے ہوں گے۔

یہ مفاہمت حکومت کی اس پالیسی تبدیلی کے تناظر میں ہوئی ہے جس کے تحت ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیاں اپنی پائپ لائن معیار کی گیس کے حصے کا 35 فیصد تک مسابقتی عمل کے ذریعے تیسرے فریق خریداروں کو فروخت کر سکتی ہیں، بشرطیکہ خریدار کے پاس آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کا متعلقہ لائسنس ہو۔ اس فریم ورک کا مقصد گیس مارکیٹ میں نئے تجارتی انتظامات اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

20 ارب روپے کا عدد اس مرحلے پر حتمی طور پر خرچ شدہ یا منظور شدہ سرمایہ کاری نہیں بلکہ دونوں کمپنیوں کے بیان کردہ آئندہ پروگرام کا تخمینہ ہے۔ مفاہمتی یادداشت عام طور پر تعاون کے ارادے اور ممکنہ منصوبوں کی جانچ کا فریم ورک فراہم کرتی ہے؛ اصل سرمایہ کاری مخصوص منصوبوں، تجارتی شرائط، ریگولیٹری منظوریوں، تکنیکی جانچ اور مالی فیصلوں کے بعد ہی عملی شکل اختیار کرتی ہے۔ اسی لیے اسے فوری مالی آمد کے بجائے ممکنہ سرمایہ کاری پائپ لائن سمجھنا زیادہ درست ہے۔

پاکستان کا گیس شعبہ مقامی پیداوار میں کمی، درآمدی ایندھن کی لاگت اور صنعتی و گھریلو طلب کے درمیان توازن جیسے مسائل کا سامنا کرتا ہے۔ نئی تھرڈ پارٹی فروخت پالیسی کے تحت نجی خریداروں اور پروڈیوسرز کے درمیان براہ راست تجارتی روابط بڑھ سکتے ہیں، لیکن مارکیٹ کے نتائج قیمت، رسائی، پائپ لائن صلاحیت اور ریگولیٹری نفاذ پر منحصر ہوں گے۔ شاہین انرجی اور اینٹن کے ایم او یو کی اگلی اہم پیش رفت مخصوص منصوبوں، سرمایہ کاری کی تقسیم اور عملی ٹائم لائن کے اعلان کی صورت میں سامنے آئے گی۔