خیبر پختونخوا حکومت نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چارسدہ کے چیف میڈیکل افسر ڈاکٹر کچکول خان کو محکمانہ کارروائی کے بعد لازمی ریٹائرمنٹ کی سزا دے دی ہے۔ ڈان کی 5 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق محکمہ صحت کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ بی ایس 20 کے جنرل کیڈر افسر کے خلاف انکوائری 15 اگست 2024 کو شروع کی گئی تھی۔ کارروائی ان کے اس دور سے متعلق تھی جب وہ ضلع مردان میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر کے طور پر تعینات تھے۔
محکمانہ انکوائری میں مختلف زمروں میں مبینہ بے ضابطہ بھرتیوں اور ان افراد کی تنخواہیں لیڈی ہیلتھ ورکرز کے لیے مختص آسامیوں کے مقابل ایڈجسٹ کرنے کے معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ ڈاکٹر کچکول خان پر یہ الزام بھی تھا کہ انہوں نے مجاز سرکاری ادارے ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایویلیوایشن ایجنسی کے بجائے ایک نجی ٹیسٹنگ ایجنسی کی خدمات حاصل کیں اور اس کے لیے مجاز اتھارٹی کی پیشگی منظوری نہیں لی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق انکوائری کمیٹی نے الزامات ثابت قرار دیتے ہوئے افسر کو بدعنوانی یا مس کنڈکٹ کا ذمہ دار پایا اور خیبر پختونخوا گورنمنٹ سرونٹس ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رولز 2011 کے تحت لازمی ریٹائرمنٹ کی بڑی سزا کی سفارش کی۔ یہ نتیجہ صوبائی حکومت کی محکمانہ کارروائی کا حتمی انتظامی فیصلہ ہے۔ دستیاب رپورٹ میں کسی فوجداری مقدمے، عدالتی سزا یا سرکاری خزانے کو پہنچنے والے کسی متعین مالی نقصان کی تفصیل نہیں دی گئی۔
محکمانہ طریقۂ کار کے تحت ڈاکٹر خان کو 6 اکتوبر 2025 کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔ بعد ازاں 17 فروری 2026 کو انہیں ذاتی سماعت کا موقع دیا گیا، جو مجاز اتھارٹی کی جانب سے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے سیکریٹری نے کی۔ رپورٹ کے مطابق ذاتی سماعت کے افسر نے بھی الزامات ثابت ہونے کا نتیجہ اخذ کیا اور انہیں مس کنڈکٹ کا ذمہ دار قرار دیا۔ اس کے بعد بڑی سزا کی سفارش وزیراعلیٰ نے منظور کردی۔
لازمی ریٹائرمنٹ برطرفی سے الگ محکمانہ سزا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں افسر کی سرکاری ملازمت مقررہ معمول کی مدت سے پہلے ختم ہوجاتی ہے۔ اس کے مالی اور پنشن سے متعلق اثرات متعلقہ سروس قواعد، ملازمت کے ریکارڈ اور حکم کی شرائط کے مطابق طے ہوتے ہیں۔ شائع شدہ نوٹیفکیشن کی رپورٹ میں ان فوائد یا کسی ممکنہ اپیل کی تفصیلی شرائط بیان نہیں کی گئیں۔
یہ معاملہ سرکاری بھرتیوں میں مجاز ٹیسٹنگ ادارے کے استعمال، آسامیوں کے درست بجٹ کوڈ اور تنخواہوں کی قانونی ایڈجسٹمنٹ کی اہمیت واضح کرتا ہے۔ بھرتی کے عمل میں منظور شدہ آسامی، اہلیت، تشہیر، امتحان اور مجاز اتھارٹی کی منظوری ضروری انتظامی مراحل ہوتے ہیں۔ ان میں بے قاعدگی سے نہ صرف ادارے کی افرادی قوت متاثر ہوسکتی ہے بلکہ منتخب امیدواروں اور سرکاری وسائل کی قانونی حیثیت بھی سوال میں آسکتی ہے۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت محکمانہ انکوائری، شوکاز نوٹس، ذاتی سماعت، الزامات ثابت قرار دینے کا انتظامی نتیجہ اور وزیراعلیٰ کی توثیق کے بعد لازمی ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن ہے۔ رپورٹ میں کسی عدالت کے فیصلے یا فوجداری جرم کی سزا کا ذکر نہیں، اس لیے خبر کو محکمانہ نظم و ضبط کی کارروائی تک محدود سمجھا جانا چاہیے۔




