پشاور: خیبر پختونخوا کے محکمہ لائیو اسٹاک و فشریز نے صوبے کے 17 سرکاری آبی ذخائر میں ماہی گیری حقوق کی الیکٹرانک نیلامی سے 66 کروڑ 60 لاکھ روپے آمدن حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ڈان کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق 2023 میں انہی یا متعلقہ حقوق کی گزشتہ نیلامی سے 19 کروڑ روپے حاصل ہوئے تھے، جبکہ نئے نظام میں آمدن میں 245 فیصد اضافہ رپورٹ کیا گیا۔ حقوق زیادہ تر ڈیموں اور ذخائر کے لیے تین سالہ مدت، یعنی 2026 سے 2029، کے لیے دیے گئے ہیں۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق سب سے نمایاں اضافہ تربیلا ذخیرے کے ماہی گیری حقوق میں ہوا۔ گزشتہ نیلامی میں اس مد میں 15 کروڑ روپے ملے تھے، جبکہ ای آکشن میں بولی 57 کروڑ 10 لاکھ روپے تک پہنچی۔ محکمہ نے تربیلا کے لیے 35 کروڑ روپے محفوظ قیمت مقرر کی تھی۔ گومل زام ڈیم کی آمدن ایک کروڑ 90 لاکھ سے بڑھ کر تین کروڑ 30 لاکھ روپے، زیبی ڈیم کرک کی 12 لاکھ سے 30 لاکھ روپے اور چتری ڈیم ہری پور کی 16 لاکھ سے 32 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔

دیگر ذخائر میں کندر ڈیم کوہاٹ، معاون کندر ڈیم، جلوزئی ڈیم نوشہرہ، کرم کے چھوٹے ڈیموں اور باجوڑ کے راغغان ڈیم کے حقوق بھی نیلام کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق بعض مقامات پر اضافہ محدود جبکہ بعض میں کئی گنا تھا۔ مجموعی رقم تمام 17 آبی ذخائر کی نیلامی سے متعلق ہے اور اسے مچھلی کی براہ راست فروخت یا ایک سال کی نقد کمائی کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے؛ یہ طے شدہ مدت کے لیے ماہی گیری حقوق کی بولیوں کی مالیت ہے۔

لائیو اسٹاک سیکرٹری ظریف المعانی کے مطابق محفوظ قیمتیں ہر آبی ذخیرے کی متوقع مچھلی پیداوار کے حقیقت پسندانہ جائزے پر مقرر کی گئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آن لائن نظام نے درمیانی افراد اور دستی مداخلت کم کی، مکمل ڈیجیٹل آڈٹ ٹریل بنائی، حقیقی وقت میں مسابقتی بولی ممکن کی اور ملک بھر کے اہل امیدواروں کو دور سے شرکت کا موقع دیا۔ یہ شفافیت اور حکمرانی کے بارے میں محکمے کا مؤقف ہے؛ طویل مدتی کامیابی کے لیے معاہدوں کی وصولی، ماحول دوست ماہی گیری اور ذخائر کی نگرانی بھی اہم ہوگی۔

زیادہ بولی صوبائی آمدن کے لیے مثبت اشارہ ہے، مگر معاہدہ داروں پر مالی دباؤ، غیر قانونی شکار، مچھلی ذخیرے کی تجدید اور مقامی ماہی گیروں کی رسائی جیسے پہلو بھی پالیسی میں متوازن رکھنے ہوں گے۔ رپورٹ میں نیلامی کے بعد مکمل ادائیگیوں، اعتراضات یا عدالتی تنازعات کی تفصیل نہیں دی گئی۔ اردو ہیڈلائنز اعداد کو محکمہ کے سرکاری ریکارڈ سے منسوب کرتا ہے اور انہیں آزاد آڈٹ کا حتمی نتیجہ قرار نہیں دیتا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک