سیول: جنوبی کوریا نے ایشیا اور یورپ کے درمیان نہر سویز کے متبادل آرکٹک بحری راستے کی تجارتی صلاحیت جانچنے کے لیے پہلا آزمائشی کنٹینر سفر شروع کیا ہے۔ ایکسپریس نیوز کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق پان اسٹار ایکرو نامی جہاز بوسان نیو پورٹ سے روانہ ہوا اور برطانیہ، نیدرلینڈز اور پولینڈ کی منزلوں تک جانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ آزمائشی سفر تقریباً 45 دن میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ مجوزہ آرکٹک راستہ روایتی نہر سویز والے راستے کے مقابلے میں لگ بھگ سات ہزار کلومیٹر اور قریب دس دن کم کر سکتا ہے۔ یہ اعداد منصوبہ بندی کے تخمینے ہیں؛ حقیقی وقت برف، موسم، بندرگاہی کارروائی، جہاز کی رفتار اور اجازت ناموں جیسے عوامل سے بدل سکتا ہے۔
اس سفر کا بنیادی مقصد یہ دیکھنا ہے کہ کنٹینر بردار جہاز کے لیے یہ راستہ عملی، محفوظ اور اقتصادی طور پر قابل عمل ہے یا نہیں۔ کم فاصلہ ایندھن اور سفر کے وقت میں بچت دے سکتا ہے، لیکن آرکٹک سمندر میں برف کی صورتحال، خصوصی جہاز یا آئس بریکر معاونت، بیمہ، محدود ہنگامی ڈھانچہ اور موسمی خطرات الگ اخراجات پیدا کر سکتے ہیں۔ اس لیے صرف نقشے پر کم فاصلہ تجارتی کامیابی کی ضمانت نہیں۔
روس اس خطے میں بحری خدمات اور راستے کے بڑے حصے پر انتظامی کردار رکھتا ہے۔ موجودہ بین الاقوامی پابندیاں، ادائیگی اور بیمہ کے ضابطے بھی جنوبی کوریا اور یورپی کمپنیوں کے لیے عملی فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ میں کسی مستقل باقاعدہ سروس کے آغاز کا اعلان نہیں ہوا؛ موجودہ مرحلہ ایک ٹیسٹ ہے جس کے نتائج کے بعد ہی اگلا قدم طے ہوگا۔
ماحولیاتی پہلو بھی اہم ہے۔ آرکٹک کا ماحولیاتی نظام حساس ہے اور بڑھتی جہاز رانی سے اخراج، شور، تیل کے ممکنہ رساؤ اور جنگلی حیات پر دباؤ کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ دوسری طرف مختصر راستہ بعض صورتوں میں مجموعی ایندھن کھپت کم کر سکتا ہے۔ مکمل ماحولیاتی موازنہ جہاز، ایندھن، برفانی معاونت اور اصل سفر کے اعداد کے بغیر ممکن نہیں۔
یہ آزمائش عالمی تجارت کے لیے فوری طور پر نہر سویز کی جگہ لینے کا اعلان نہیں بلکہ متبادل راستے کی پیمائش ہے۔ سفر کی تکمیل، حقیقی مدت، لاگت، حفاظتی کارکردگی اور ماحولیاتی جائزہ سامنے آنے کے بعد ہی اس کے مستقبل پر قابل اعتماد نتیجہ اخذ کیا جا سکے گا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




