پشاور: خیبرپختونخوا کے محکمہ صحت نے ایم پاکس کے چار نئے کیسز کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد صوبے میں رواں سال رپورٹ ہونے والے مریضوں کی مجموعی تعداد 18 ہو گئی ہے۔ نئے مریضوں میں ایک خاتون اور تین مرد شامل ہیں اور محکمہ صحت کے مطابق ان میں سے کسی کی بھی حالیہ بین الاقوامی سفر کی تاریخ رپورٹ نہیں ہوئی۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق مریضوں کے نمونے خیبر میڈیکل یونیورسٹی کی پبلک ہیلتھ ریفرنس لیبارٹری بھیجے گئے تھے جہاں ٹیسٹ کے بعد انفیکشن کی تصدیق ہوئی۔ دو مریضوں کا تعلق نوشہرہ، ایک کا پشاور اور ایک کا مردان سے ہے۔ محکمہ صحت نے چاروں مریضوں کو گھر میں الگ رہنے کی ہدایت کی ہے تاکہ بیماری کے مزید پھیلاؤ کے خطرے کو محدود کیا جا سکے۔

حکام نے مریضوں سے رابطے میں آنے والے افراد کی نشاندہی اور نگرانی کا عمل بھی تیز کیا ہے۔ بین الاقوامی سفر کی معلوم تاریخ نہ ہونے کی وجہ سے صحت حکام مقامی سطح پر منتقلی کے امکان کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں، تاہم صرف سفر نہ کرنے کی بنیاد پر کسی مخصوص سلسلۂ انتقال کو حتمی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ وبائیاتی تحقیق اور رابطوں کی جانچ سے ہی منتقلی کے ذرائع کے بارے میں زیادہ واضح نتیجہ اخذ کیا جا سکے گا۔

محکمہ صحت کے اعداد کے مطابق رواں سال صوبے میں ایم پاکس کا پہلا کیس 9 جنوری کو سامنے آیا تھا۔ اب تک رپورٹ ہونے والے مریضوں میں سے 13 صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ ایک مریض کی موت ہوئی ہے۔ تازہ چار کیسز کے بعد حکام کی توجہ بروقت تشخیص، آئسولیشن اور قریبی رابطوں کی نگرانی پر مرکوز ہے۔

ایم پاکس ایک متعدی وائرل بیماری ہے جو قریبی جسمانی رابطے اور متاثرہ مواد کے ذریعے منتقل ہو سکتی ہے۔ مریض اس وقت تک دوسروں کو انفیکشن منتقل کر سکتا ہے جب تک تمام زخم مکمل طور پر ٹھیک نہ ہو جائیں اور نئی جلد نہ بن جائے۔ علامات میں بخار، جسم میں درد، گلے کی تکلیف، لمف نوڈز میں سوجن اور جلد پر دانے یا زخم شامل ہو سکتے ہیں، اگرچہ علامات ہر مریض میں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔

بچوں، حاملہ افراد اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والوں میں پیچیدگیوں کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہو سکتا ہے۔ صوبائی حکام کی جانب سے رابطوں کی تلاش کا مقصد ممکنہ متاثرہ افراد کی جلد شناخت کرنا ہے۔ تازہ اعداد موجودہ رپورٹ شدہ کیسز کی تصویر پیش کرتے ہیں اور مزید ٹیسٹنگ کے نتیجے میں مجموعی تعداد تبدیل ہو سکتی ہے۔