جنوبی وزیرستان میں پاک افغان سرحد کے قریب انگور اڈہ کے علاقے میں افغانستان کی جانب سے ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوگئے۔ پاکستانی حکام کے مطابق فائرنگ سرحد کے دوسری جانب واقع افغان پوسٹوں سے کی گئی اور اس میں شہری آبادی اور بازار کا علاقہ متاثر ہوا۔
حکام نے بتایا کہ فائرنگ میں چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں کے ساتھ اسنائپر فائر بھی استعمال ہوا۔ واقعے کے بعد پاکستانی سکیورٹی فورسز نے سرحد پار سے ہونے والی فائرنگ کا جواب دیا۔ فوری طور پر افغان حکام کی جانب سے واقعے کی تفصیلی وضاحت سامنے نہیں آئی، اس لیے فائرنگ کے محرکات اور دوسری جانب ہونے والے ممکنہ نقصان سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
زخمیوں کو طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا۔ مقامی انتظامیہ اور سکیورٹی حکام نے سرحدی علاقے میں صورتحال پر نظر رکھی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک سینئر پاکستانی انتظامی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ افغان طالبان فورسز کی فائرنگ نے شہری گھروں اور ایک بازار کو نشانہ بنایا۔ پاکستانی میڈیا کی رپورٹس میں بھی ہلاکت اور پانچ زخمیوں کی تصدیق کی گئی ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب پاک افغان سرحد کے مختلف حصوں میں سکیورٹی تناؤ پہلے ہی موجود ہے۔ پاکستان بارہا افغانستان میں موجود مسلح گروہوں کی سرگرمیوں پر تشویش ظاہر کرتا رہا ہے، جبکہ کابل ان الزامات کے بعض پہلوؤں سے اختلاف کرتا رہا ہے۔ اس پس منظر میں سرحدی فائرنگ کے واقعات دونوں ملکوں کے درمیان سکیورٹی رابطوں اور مقامی آبادی کے تحفظ کے لیے اہم چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
واقعے کے بعد خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر حملے برداشت نہیں کرے گا۔ تاہم اس خبر میں فریقین سے منسوب دعووں کو ان کے اپنے مؤقف کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے، اور کسی وسیع تر عسکری ذمہ داری یا ارادے کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا۔
سرحدی آبادیوں کے لیے ایسے واقعات کا فوری اثر نقل و حرکت، کاروبار اور روزمرہ زندگی پر پڑتا ہے۔ حکام کی جانب سے آئندہ اقدامات، ممکنہ سفارتی رابطوں اور فائرنگ کے واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آنے پر صورتحال زیادہ واضح ہوگی۔

