پشاور: انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی 2023 کو ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت پر حملے اور آتش زنی کے مقدمے میں معطل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سمیت پانچ پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔ عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 4 نومبر تک ملتوی کردی۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر نے عدالت میں چالان پیش کیا جس میں سہیل آفریدی، سابق صوبائی وزرا تیمور سلیم جھگڑا اور کامران خان بنگش، پی ٹی آئی پشاور کے صدر عرفان سلیم اور کارکن عامر خان چمکنی کو ملزم نامزد کیا گیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ولی محمد خان نے چالان پیش ہونے اور نامزدگی کے بعد قانونی کارروائی کے تحت وارنٹ جاری کیے۔
ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گیگیانی نے عدالت کو بتایا کہ حملے کی ویڈیو فوٹیج موجود ہے اور اس میں دکھائی دینے والے افراد کی شناخت نادرا اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے ذریعے کرانے کی درخواست کی گئی تھی۔ عدالت نے ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعے شناخت کی جانچ کے لیے متعلقہ فرانزک رپورٹس حاصل کیں۔
استغاثہ کا مؤقف ہے کہ جائے وقوعہ کی فوٹیج کے فرانزک تجزیے میں نامزد ملزمان کی موجودگی کی نشاندہی ہوئی۔ تاہم یہ استغاثہ کا مقدمہ اور زیر سماعت شواہد ہیں؛ وارنٹ گرفتاری یا چالان کسی شخص کے جرم کا حتمی عدالتی تعین نہیں ہوتے۔ دفاع کو ان شواہد کو چیلنج کرنے اور اپنا مؤقف پیش کرنے کا قانونی حق حاصل ہے۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری نے جنوری میں 16 ویڈیو کلپس کا تجزیہ کیا تھا۔ بعض فوٹیج میں سہیل آفریدی، کامران بنگش، تیمور سلیم جھگڑا اور عرفان سلیم کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی، لیکن رپورٹ میں کچھ کلپس میں ایڈیٹنگ یا جوڑ توڑ کے آثار کا ذکر بھی تھا۔ اس وجہ سے شواہد کی حتمی قدر اور قابل قبول ہونے کا فیصلہ عدالت کو کرنا ہے۔
ریڈیو پاکستان پشاور پر حملہ 9 مئی 2023 کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والے پرتشدد احتجاج کے دوران ہوا تھا۔ مظاہرین عمارت میں داخل ہوئے، آگ لگائی اور گاڑیوں و نشریاتی آلات کو نقصان پہنچا۔ تاریخی ریکارڈنگز اور علاقائی زبانوں کے قیمتی آرکائیوز بھی آگ سے متاثر ہوئے تھے۔ مقدمے میں 80 سے زیادہ افراد کے نام مختلف مراحل میں سامنے آئے ہیں۔
تازہ عدالتی کارروائی میں دفاعی وکیل علی زمان نے مزید وقت مانگا، جس کے بعد عدالت نے سماعت 4 نومبر تک ملتوی کردی۔ مقدمہ زیر سماعت ہے اور نامزد افراد کے خلاف الزامات پر حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔

