اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا کے ان اضلاع میں بلدیاتی انتخابات آگے بڑھانے کا حکم دیا ہے جہاں حلقہ بندیوں کا عمل مکمل ہو چکا ہے، تاہم صوبے کے ان اضلاع کو فوری انتخابی پروگرام سے الگ رکھا گیا ہے جن کے لیے سکیورٹی حالات کے باعث خصوصی ہنگامی انتظامات نافذ ہیں۔ کمیشن نے اپنے دفتر کو ہدایت کی کہ مکمل حلقہ بندی والے اضلاع کا انتخابی پروگرام منظوری کے لیے پیش کیا جائے۔
یہ فیصلہ صوبائی حکومت کی اس درخواست پر سماعت کے بعد سامنے آیا جس میں امن و امان، ہنگامی حالت اور آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی تعیناتی کا حوالہ دیتے ہوئے بلدیاتی انتخابات مؤخر کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ الیکشن کمیشن نے ایک روز قبل دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے معاملے کی سماعت کی۔ کمیشن کے حکم کے مطابق بنوں، مہمند، اورکزئی، لکی مروت اور شمالی وزیرستان کو 11 اکتوبر کے وفاقی حکم کے تناظر میں فوری انتخابی پروگرام سے خارج رکھا گیا ہے۔ اسی طرح باقی اضلاع میں حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کرنے کی ہدایت دی گئی، تاہم ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، باجوڑ، خیبر، کرم، لوئر جنوبی وزیرستان اور اپر جنوبی وزیرستان اس مرحلے سے مستثنیٰ ہوں گے۔ ان بارہ اضلاع کے لیے ہنگامی انتظامات کے تحت ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل کا نظام قائم کیا گیا تھا۔
کمیشن نے آئین کے آرٹیکلز 218(3)، 140A(2)، 219(d)، 220 اور 222 کے ساتھ الیکشنز ایکٹ 2017 کی متعلقہ دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ ہدایات جاری کیں۔ حکم میں سات اضلاع—کرک، ہنگو، سوات، بار سوات، بٹگرام، پہاڑپور اور آلائی—میں موجودہ ریونیو حدود کے مطابق ویلج اور نیبرہڈ کونسلوں کی تعداد اور تحصیل کونسلوں میں مختلف زمروں کی مخصوص نشستوں کا تعین یا ایڈجسٹمنٹ کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
خیبرپختونخوا میں موجودہ بلدیاتی اداروں کی مدت دو مراحل میں ختم ہوئی تھی؛ پہلے مرحلے کے اداروں کی مدت مارچ 2026 اور دوسرے مرحلے کی جون 2026 میں پوری ہوئی۔ جولائی میں صوبائی حکومت نے الیکشن کمیشن کو ان علاقوں میں انتخابات کے انعقاد میں تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی جہاں حلقہ بندیاں مکمل تھیں۔ بعد میں کمیشن نے صوبائی بلدیاتی قانون میں ویلج اور نیبرہڈ کونسلوں کی آبادی سے متعلق ایک ترمیم پر اعتراض بھی کیا تھا۔
تازہ حکم کا مطلب یہ نہیں کہ پورے صوبے میں ایک ہی تاریخ کو انتخابات کا حتمی شیڈول جاری ہو گیا ہے۔ کمیشن نے اپنے دفتر سے متعلقہ اضلاع کا انتخابی پروگرام منظوری کے لیے طلب کیا ہے، جبکہ باقی اضلاع میں حلقہ بندیوں کا عمل مکمل کرنے کے لیے الگ ہدایات دی گئی ہیں۔ اس طرح انتخابات کا عملی ٹائم فریم ضلع وار انتظامی اور حلقہ بندی کی پیش رفت سے جڑا رہے گا۔

