لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن نورین نیازی کو کوٹ لکھپت جیل میں طبیعت خراب ہونے کے بعد پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کر دیا گیا۔ ان کے وکیل کے مطابق نورین نیازی نے دل سے متعلق تکلیف محسوس کی، جس کے بعد جیل حکام نے انہیں طبی معائنے کے لیے ہسپتال پہنچایا۔

جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق نورین نیازی زیر حراست ہیں اور ہسپتال منتقلی کے بعد ان کے ابتدائی طبی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان کے وکیل نے بتایا کہ انہیں بلند فشار خون کی شکایت بھی ہوئی تھی۔ دستیاب معلومات میں کسی حتمی تشخیص یا سنگین قلبی بیماری کی تصدیق نہیں کی گئی، اس لیے ہسپتال منتقلی کو طبی احتیاط اور معائنے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

نورین نیازی کی صحت سے متعلق خبر ایسے وقت سامنے آئی ہے جب عمران خان کے اہل خانہ اور تحریک انصاف کے متعدد رہنما سیاسی اور قانونی معاملات کے باعث زیر حراست یا عدالتی کارروائیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ تاہم ان کی موجودہ طبی حالت کے بارے میں صرف وہی معلومات مصدقہ سمجھی جا سکتی ہیں جو ہسپتال، جیل انتظامیہ یا ان کے قانونی نمائندوں کی جانب سے باضابطہ طور پر سامنے آئیں۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ڈاکٹروں نے ابتدائی جانچ شروع کی۔ کسی مریض کو سینے یا دل سے متعلق تکلیف کی شکایت پر ہسپتال منتقل کیے جانے کی صورت میں بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن اور دیگر بنیادی ٹیسٹ معمول کے طبی جائزے کا حصہ ہو سکتے ہیں، تاہم نورین نیازی کے مخصوص ٹیسٹ نتائج کی مکمل تفصیل خبر کے وقت تک جاری نہیں کی گئی تھی۔

جیل میں زیر حراست افراد کی طبی دیکھ بھال ریاستی ذمہ داری کے دائرے میں آتی ہے اور کسی بھی صحت کی شکایت پر مناسب معائنہ اور علاج ضروری ہوتا ہے۔ اس معاملے میں اصل پیش رفت ان کے ٹیسٹ نتائج، ڈاکٹروں کی رائے اور اس فیصلے سے واضح ہوگی کہ انہیں ہسپتال میں مزید نگرانی کے لیے رکھا جاتا ہے یا طبی کلیئرنس کے بعد واپس جیل منتقل کیا جاتا ہے۔ فی الحال دستیاب رپورٹ صرف ان کی ہسپتال منتقلی اور ابتدائی طبی جانچ کی تصدیق کرتی ہے۔