پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کے عدالتی افسران کے لیے ٹرانسپورٹ سہولت کی مونیٹائزیشن کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت مختلف عہدوں پر تعینات ججوں کو سرکاری گاڑی یا متعلقہ ٹرانسپورٹ فائدے کے بدلے مقررہ ماہانہ رقم ادا کی جائے گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق گریڈ 21 کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو ماہانہ ایک لاکھ 95 ہزار روپے، گریڈ 20 کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو ایک لاکھ 75 ہزار روپے، گریڈ 19 کے سینئر سول جج کو ایک لاکھ 50 ہزار روپے اور گریڈ 18 کے سول جج کو ایک لاکھ روپے مونیٹائزیشن رقم ملے گی۔ یہ ادائیگیاں متعلقہ قواعد اور نوٹیفکیشن میں درج شرائط کے تحت ہوں گی۔

ٹرانسپورٹ مونیٹائزیشن کا بنیادی تصور یہ ہے کہ حکومت سرکاری گاڑی، ایندھن، دیکھ بھال اور بعض متعلقہ انتظامی اخراجات کے بجائے اہل افسر کو ایک طے شدہ نقد رقم ادا کرتی ہے۔ اس نظام کا مقصد اخراجات کو قابل پیش گوئی بنانا اور گاڑیوں کے انتظام سے متعلق سرکاری ذمہ داریوں کو محدود کرنا ہو سکتا ہے، تاہم مجموعی مالی اثر کا انحصار اہل افسران کی تعداد اور سابقہ ٹرانسپورٹ اخراجات سے موازنے پر ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی نے 11 فروری 2026 کے اجلاس میں عدالتی افسران کے لیے سفارشات کے ایک پیکیج کی منظوری دی تھی۔ اس اجلاس کی صدارت چیف جسٹس آف پاکستان نے کی تھی۔ خیبر پختونخوا کا تازہ نوٹیفکیشن اسی پالیسی عمل کے بعد سامنے آیا ہے۔

عدالتی افسران کی تنخواہوں، الاؤنسز اور سہولتوں کے معاملات صوبائی بجٹ اور عدلیہ کی انتظامی ضروریات دونوں سے متعلق ہوتے ہیں۔ نئی مونیٹائزیشن پالیسی کے نفاذ کے بعد یہ دیکھا جائے گا کہ سرکاری گاڑیوں کے موجودہ استعمال، ایندھن و مرمت کے اخراجات اور نقد ادائیگیوں کے درمیان کس طرح منتقلی کی جاتی ہے۔ نوٹیفکیشن میں مقرر رقوم فوری طور پر مختلف عدالتی عہدوں کے لیے واضح مالی معیار فراہم کرتی ہیں۔