پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے خواتین کے لیے پنک بس سروس اور بی آر ٹی نظام میں نئی ہائبرڈ بسوں کا آغاز کر دیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے افتتاحی تقریب میں پنک بس سروس، چمکنی ڈپو کی سولرائزیشن اور نئے مال آف حیات آباد ڈپو سمیت متعدد اقدامات کا افتتاح کیا۔
صوبائی حکومت کے مطابق پنک بسوں میں سفر کرنے والی خواتین سے دیگر بی آر ٹی بسوں کے مقابلے میں 25 فیصد کم کرایہ وصول کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں پانچ پنک بسیں منتخب روٹس پر پیک اوقات کے دوران چلائی جائیں گی، جبکہ بعد میں بسوں کی تعداد اور روٹس میں بتدریج اضافہ کرنے کا منصوبہ ہے۔ وزیراعلیٰ نے خواتین ڈرائیوروں کی خدمات کو بھی سراہا اور انہیں دوسری خواتین کے لیے مثال قرار دیا۔
افتتاحی بریفنگ میں بتایا گیا کہ بی آر ٹی نظام روزانہ تقریباً ڈھائی لاکھ مسافروں کو سفری سہولت فراہم کر رہا ہے، جن میں تقریباً 30 فیصد خواتین ہیں۔ 52 نئی بسوں کے اضافے کے بعد بی آر ٹی کے مجموعی بیڑے کی تعداد 296 ہوگئی ہے۔ حکام کے مطابق نئی بسوں سے مزید روٹس کھولنے اور موجودہ روٹس پر مسافروں کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
صوبائی حکومت نے مزید 50 بسوں اور ایک نئے ڈپو کی خریداری و تعمیر کا عمل بھی شروع کر رکھا ہے، جس کی لاگت 6.2 ارب روپے بتائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں مزید 50 بسوں کے لیے 5 ارب روپے شامل کیے گئے ہیں۔ بی آر ٹی کی مکمل سولرائزیشن کے لیے 1.5 ارب روپے مختص کیے جانے کی بھی اطلاع دی گئی۔
چمکنی ڈپو میں ایک میگاواٹ کا سولر پاور سسٹم مکمل کیا گیا ہے، جس سے سالانہ 14 لاکھ 40 ہزار یونٹ بجلی پیدا ہونے اور تقریباً 7 کروڑ 60 لاکھ روپے کی بچت کا تخمینہ دیا گیا ہے۔ یہ اعداد حکومتی تخمینے ہیں اور عملی بچت بجلی کی پیداوار، نرخوں اور آپریشنل حالات کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔
پنک بس سروس کا مقصد خواتین کی مخصوص سفری ضروریات، تحفظ اور قابل برداشت کرایے کے مسئلے کو حل کرنا ہے۔ اس سروس کی کامیابی کا عملی اندازہ روٹس کی دستیابی، بسوں کی تعداد، وقت کی پابندی، مسافر تعداد اور خواتین کے تجربات سے ہوگا، جبکہ حکومت نے پہلے مرحلے کو بتدریج توسیع دینے کا اعلان کیا ہے۔
