خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے سے تعلق رکھنے والی مزید پچاس شخصیات کے نام پاکستان سول ایوارڈز کے لیے وفاقی حکومت کو بھیج دیے ہیں۔ ایکسپریس اردو کے مطابق سفارشات میں 28 گیلنٹری ایوارڈز اور 22 سول ایوارڈز شامل ہیں، اور فہرست صوبائی محکمہ انتظامیہ کے کابینہ ونگ سے کابینہ ڈویژن اسلام آباد کو ارسال کی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ وفاق کی جانب سے خیبر پختونخوا سے مزید نام مانگے جانے کے بعد یہ فہرست تیار ہوئی۔ صوبائی سفارشات میں پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری، انتظامیہ اور دوسرے شعبوں سے وابستہ افراد شامل ہیں۔ کسی نام کی صوبائی سفارش بذات خود حتمی اعزاز نہیں؛ منظوری وفاقی جانچ اور مقررہ قانونی و انتظامی عمل کے بعد ہوگی۔
گیلنٹری سفارشات میں موجود اور سابق اہلکاروں کے ساتھ وفات پا جانے والے اہلکاروں کے لیے بھی اعزازات تجویز کیے گئے ہیں۔ رپورٹ نے آئی جی خیبر پختونخوا کے لیے ہلال شجاعت، بعض پولیس افسران کے لیے ستارہ شجاعت اور متعدد اہلکاروں کے لیے تمغہ شجاعت کی تجاویز کا ذکر کیا۔ یہ تمام درجات ابھی تجویز ہیں اور حتمی نوٹیفکیشن سے پہلے تبدیل ہو سکتے ہیں۔
سول ایوارڈز کا مقصد ریاستی، سماجی، انتظامی یا عوامی خدمات اور بہادری کے نمایاں کردار کو تسلیم کرنا ہوتا ہے۔ سفارشات کی تعداد اور مجوزہ درجہ صوبائی حکومت کے جائزے کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ حتمی فیصلے میں امیدواروں کے ریکارڈ، قواعد اور وفاقی منظوری دیکھی جاتی ہے۔ اس خبر میں کسی امیدوار کی اہلیت پر آزاد فیصلہ نہیں دیا جا رہا۔
ناموں کی طویل فہرست کے باعث غلط املا یا غیر حتمی درجہ پھیلنے کا خطرہ رہتا ہے۔ شہری اور متعلقہ خاندان کابینہ ڈویژن یا ایوان صدر کے حتمی اعلان کو معتبر سمجھیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فہرست کو اعزاز ملنے کا قطعی ثبوت نہیں کہا جا سکتا جب تک باضابطہ منظوری نہ ہو۔
اردو ہیڈ لائنز حتمی منظور شدہ فہرست، اعزازات کے درجے اور تقریب کی تاریخ جاری ہونے پر اس ریکارڈ کو اپ ڈیٹ کرے گا۔ موجودہ خبر صرف خیبر پختونخوا حکومت کی پچاس نئی سفارشات اور ان کی وفاق کو ترسیل کی تصدیق کرتی ہے؛ حتمی انعام یا تقریب ابھی رپورٹ نہیں ہوئی۔




