خیبر پختونخوا کے حکام نے گلیشیائی جھیل پھٹنے سے پیدا ہونے والے سیلاب، جسے گلوف کہا جاتا ہے، کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر صوبے کے سات حساس اضلاع میں ہنگامی تیاریوں اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا ہے۔ سوات میں ہونے والے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت محکمہ ریلیف، بحالی و آبادکاری کے سیکریٹری اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے کی۔ اجلاس پاکستان محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری گلوف الرٹ اور ایڈوائزری کے تناظر میں بلایا گیا۔

اجلاس میں سوات، اپر دیر، لوئر دیر، اپر کوہستان، مانسہرہ، لوئر چترال اور اپر چترال کی ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ڈپٹی کمشنر سوات سلیم جان مروت ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ حکام نے حساس وادیوں اور آبادیوں کی صورتحال، ممکنہ انخلا کے راستوں، ہنگامی رابطوں، امدادی عملے اور ضروری مشینری و سامان کی دستیابی پر غور کیا۔

گلوف اس وقت پیدا ہوسکتا ہے جب گلیشیئر کے قریب بننے والی جھیل کا قدرتی بند اچانک ٹوٹ جائے اور بڑی مقدار میں پانی تیزی سے نیچے کی وادیوں کی جانب بہنے لگے۔ ایسے واقعات میں پانی کے ساتھ ملبہ، پتھر اور مٹی بھی آسکتی ہے، جس سے سڑکوں، پلوں، گھروں، زرعی زمین اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ تاہم الرٹ کا اجرا کسی مخصوص جھیل کے پھٹنے کی تصدیق نہیں بلکہ موسمی اور زمینی حالات کے باعث خطرے میں اضافے کی پیشگی اطلاع ہے۔

صوبائی حکام نے ضلعی انتظامیہ کو مقامی آبادیوں تک بروقت انتباہ پہنچانے، خطرے والے مقامات کی نگرانی اور ضرورت پڑنے پر انخلا کے انتظامات فعال رکھنے کی ہدایت کی۔ پہاڑی علاقوں میں موبائل رابطہ اور زمینی رسائی محدود ہونے کی وجہ سے مقامی سطح کے انتباہی نظام اور کمیونٹی رابطوں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ اجلاس میں مختلف محکموں کے درمیان معلومات کے فوری تبادلے اور ریسکیو ٹیموں کی دستیابی کو بھی تیاری کا اہم حصہ قرار دیا گیا۔

پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میں بڑھتے درجہ حرارت، گلیشیئرز کے پگھلاؤ اور شدید بارش کے ادوار کے دوران گلوف کا خطرہ توجہ کا اہم موضوع بن چکا ہے۔ خیبر پختونخوا کے چترال، دیر، سوات اور کوہستان جیسے اضلاع میں بلند پہاڑی وادیاں اور گلیشیائی نظام موجود ہیں، اس لیے موسمی ادارے گرم یا شدید بارش والے ادوار میں خصوصی الرٹس جاری کرتے ہیں۔ خطرے کی سطح ہر وادی اور جھیل میں یکساں نہیں ہوتی اور مقامی مشاہدات اس کے تعین میں اہم ہوتے ہیں۔

حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو سرکاری موسمی ایڈوائزری پر نظر رکھنے، تیز بہاؤ والے نالوں اور ممکنہ سیلابی راستوں سے دور رہنے اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر فوری عمل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ موجودہ اجلاس کا مقصد کسی حادثے کے بعد ردعمل کے بجائے پیشگی تیاری کو مضبوط بنانا ہے تاکہ خطرے کی صورت میں انتباہ، انخلا اور امدادی کارروائی کم سے کم تاخیر کے ساتھ شروع کی جاسکے۔