خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں پاک افغان سرحد پر مسلح افراد کی دراندازی کی ایک کوشش ناکام بنا دی گئی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ مشتبہ جنگجو افغانستان کے صوبوں ننگرہار اور پکتیا کی سمت سے پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ پاکستانی حکام ان عناصر کے لیے ریاستی اصطلاح ’’فتنہ الخوارج‘‘ استعمال کرتے ہیں، جو کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے منسلک جنگجوؤں کے لیے سرکاری بیانات میں رائج ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق جب دراندازی کی کوشش روکی گئی تو افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی چوکیوں پر فائرنگ شروع ہوئی۔ انہی ذرائع نے اس فائرنگ کو بلااشتعال قرار دیا اور کہا کہ پاکستانی دستوں نے جواب میں افغان طالبان کی متعدد چوکیوں اور دفاعی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا۔ رپورٹ میں کسی آزاد ذریعے سے جانی نقصان کی تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے نقصان یا پسپائی سے متعلق تمام تفصیلات کو سکیورٹی ذرائع سے منسوب کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستانی فورسز سرحدی صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہیں اور کسی بھی مزید پیش رفت کے لیے تیار ہیں۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد سرحدی اور انسداد دہشت گردی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایک روز قبل وزارت اطلاعات نے بتایا تھا کہ پاکستان نے افغانستان سے ملحق سرحدی علاقے میں دہشت گرد تنظیموں کے مبینہ ٹھکانوں پر کارروائی کی تھی۔ وزارت کے مطابق یہ کارروائی حالیہ حملوں کے ذمہ دار گروہوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف کی گئی۔
اسلام آباد طویل عرصے سے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کرتا آ رہا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے، خصوصاً کالعدم ٹی ٹی پی سے منسلک نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔ افغان طالبان ماضی میں پاکستان کے بعض الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے منسلک ایک حالیہ مانیٹرنگ رپورٹ میں بھی ٹی ٹی پی اور افغانستان میں اس کی سرگرمیوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔
کرم کا سرحدی علاقہ جغرافیائی اور سکیورٹی اعتبار سے حساس سمجھا جاتا ہے اور یہاں پیش آنے والی کسی بھی مسلح جھڑپ کے اثرات دوطرفہ تعلقات پر پڑ سکتے ہیں۔ تازہ واقعے میں فائرنگ کے دورانیے، کسی ممکنہ جانی نقصان یا سرحدی گزرگاہوں پر اثرات کے بارے میں فوری طور پر مزید سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

