لاہور پولیس نے 20 سالہ آذربائیجانی خاتون کے مبینہ اغوا اور اجتماعی جنسی حملے کے مقدمے میں تین مرکزی ملزمان کے نام پروویژنل نیشنل آئیڈینٹیفکیشن لسٹ (PNIL) میں شامل کرنے کے لیے وفاقی حکام سے درخواست کی ہے۔ ڈان کی 28 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے یہ قدم اس خدشے کے پیش نظر اٹھایا کہ نامزد یا شناخت کیے گئے ملزمان ملک سے باہر جانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ یہ مقدمہ ابھی زیرِ تفتیش ہے اور الزامات کو عدالت میں ثابت ہونا باقی ہے۔
پولیس کے مطابق واقعہ لاہور کے ڈیفنس سی علاقے سے متعلق ہے۔ متاثرہ خاتون نے ایف آئی آر میں الزام عائد کیا کہ دو خواتین اسے کھانے کے لیے ایک کیفے لے گئیں، جہاں تین مرد موجود تھے۔ اس کے مطابق بعد میں اسے ایک اپارٹمنٹ میں لے جایا گیا، نشہ آور مواد دیا گیا اور اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔ خاتون نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس کے موبائل فون اور دیگر سامان لے لیا گیا اور بعد میں اسے غازی انٹرچینج کے قریب چھوڑ دیا گیا۔ یہ تفصیلات شکایت کنندہ کے بیان اور پولیس ریکارڈ پر مبنی الزامات ہیں، حتمی عدالتی نتائج نہیں۔
لاہور پولیس نے بتایا کہ تین مرکزی مشتبہ افراد کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ پولیس نے ایک گاڑی بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے جسے مبینہ طور پر خاتون کو لے جانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ جیو نیوز کے مطابق تین دیگر افراد کو بھی حراست میں لیا گیا اور ان سے ممکنہ سہولت کاری کے شبہے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ حراست یا تفتیش میں شامل ہونا کسی شخص کے جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہوتا۔
پولیس نے متاثرہ خاتون کا طبی معائنہ بھی کرایا اور کہا کہ مکمل بیان ریکارڈ کرنے کا عمل اس کی طبی حالت کے مطابق آگے بڑھایا جائے گا۔ تحقیقات میں دستیاب سی سی ٹی وی، موبائل فون ریکارڈ، گاڑی، جائے وقوعہ سے متعلق شواہد اور دیگر فرانزک مواد اہم ہو سکتے ہیں۔ ان شواہد کے نتائج اور ان کی قانونی حیثیت تفتیش اور عدالتی کارروائی کے دوران واضح ہوگی۔
PNIL میں نام شامل کرنے کی درخواست بنیادی طور پر عارضی سفری نگرانی کا انتظام ہے اور یہ بذاتِ خود مجرمانہ ذمہ داری کا فیصلہ نہیں۔ اگر وفاقی حکام درخواست منظور کرتے ہیں تو متعلقہ افراد کے بیرون ملک سفر کو روکا جا سکتا ہے یا ان کی روانگی پر مزید جانچ ہو سکتی ہے۔ مقدمے کا اگلا اہم مرحلہ مرکزی ملزمان کی گرفتاری، متاثرہ خاتون کے مکمل بیان، فرانزک نتائج اور تفتیشی رپورٹ ہوگا۔
