لاہور: ایک 20 سالہ آذربائیجانی خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں میڈیکل رپورٹ نے جنسی تشدد کی تصدیق کی ہے، جبکہ متاثرہ خاتون نے لاہور میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت اپنا بیان بھی ریکارڈ کرا دیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ لاہور کے علاقے سے متعلق درج مقدمے کی تفتیش کا حصہ ہے اور مرکزی ملزمان کے خلاف کارروائی جاری ہے۔

رپورٹس کے مطابق مقدمہ ڈیفنس سی پولیس اسٹیشن میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 375 اے کے تحت درج کیا گیا۔ متاثرہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ کاروباری مقصد سے پاکستان آئی ہوئی تھی اور اسے 25 اور 26 ستمبر کی درمیانی شب ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں لے جایا گیا، جہاں اس کے ساتھ مبینہ طور پر تین افراد نے جنسی زیادتی کی۔ یہ الزام متاثرہ خاتون کے بیان اور درج مقدمے کا حصہ ہے؛ کسی بھی نامزد شخص کی مجرمانہ ذمہ داری کا حتمی تعین عدالت میں شواہد کی جانچ کے بعد ہوگا۔

لاہور پولیس کے حوالے سے شائع ہونے والی تفصیلات میں کہا گیا کہ ایک اہم مشتبہ شخص کو حراست میں لیا گیا جبکہ کچھ دیگر افراد کو مبینہ معاونت کے شبہے میں بھی پکڑا گیا۔ دوسری رپورٹس میں پولیس نے بتایا کہ تین مرکزی مشتبہ افراد کی تلاش کے لیے مختلف ٹیمیں کام کر رہی ہیں اور ایک ایسی گاڑی بھی قبضے میں لی گئی جو مبینہ طور پر واقعے میں استعمال ہوئی۔ پولیس نے وفاقی حکام سے بعض مشتبہ افراد کے نام عارضی سفری پابندی کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے بھی رابطہ کیا تاکہ ان کے ملک سے باہر جانے کے امکان کو روکا جا سکے۔

متاثرہ خاتون کو سکیورٹی میں کینٹ کچہری لایا گیا، جہاں اس نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ میڈیکل رپورٹ کے بارے میں پولیس اور متعدد قومی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا کہ معائنے میں جنسی تشدد کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ طبی نتیجہ مقدمے میں ایک اہم شہادتی عنصر ہے، تاہم یہ بذاتِ خود کسی مخصوص ملزم کی شناخت یا قانونی جرم ثابت نہیں کرتا؛ تفتیشی اداروں کو دیگر شواہد، بیانات اور فرانزک مواد کے ساتھ معاملے کو عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔

پولیس کے مطابق کیس کی تفتیش آپریشنز، انویسٹی گیشن اور کرائم کنٹرول سے متعلق ٹیمیں مل کر کر رہی ہیں۔ حکام نے کہا ہے کہ باقی مطلوب افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔ مقدمہ حساس نوعیت کا ہونے کے باعث متاثرہ خاتون کی ذاتی معلومات کی غیر ضروری تشہیر سے گریز ضروری ہے، جبکہ تفتیشی دعوؤں اور عدالتی طور پر ثابت شدہ حقائق کے درمیان فرق برقرار رکھنا بھی اہم ہے۔ اس مرحلے پر واقعہ زیرِ تفتیش ہے اور کسی ملزم کے خلاف حتمی عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔