لاہور پولیس نے چوری شدہ موبائل فونز کے آئی ایم ای آئی نمبرز تبدیل کرنے اور ایسے فونز کی غیر قانونی خرید و فروخت میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف جامع کریک ڈاؤن شروع کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ ڈان کے مطابق کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر لاہور بلال صدیق کمیانہ نے ایک اجلاس میں موبائل فون چوری، جیب تراشی اور منظم گروہوں کے خلاف کارروائیوں کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ پولیس افسران کو یہ احکامات دیے۔
آئی ایم ای آئی یعنی انٹرنیشنل موبائل ایکوپمنٹ آئیڈینٹی عام طور پر ہر موبائل فون یا سیلولر ڈیوائس سے منسلک ایک منفرد 15 ہندسوں کا نمبر ہوتا ہے۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ چوری شدہ فونز کے آئی ایم ای آئی نمبرز تبدیل کیے جانے سے ان کی شناخت، ٹریکنگ اور بازیابی مشکل ہو سکتی ہے، اس لیے ایسے تکنیکی طریقوں میں ملوث افراد کے خلاف خصوصی کارروائی ضروری ہے۔
اجلاس میں شہر کے ان علاقوں کی جیو فینسنگ اور نگرانی مضبوط بنانے پر بھی غور کیا گیا جہاں موبائل فون چوری، جیب تراشی یا دیگر اسٹریٹ کرائم زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں۔ پولیس حکام نے انسانی انٹیلی جنس کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، زیادہ نفری کی تعیناتی، گشت میں اضافہ اور سادہ لباس اہلکاروں کے ذریعے ڈیکوئے آپریشنز کی تجویز پر بھی کام کرنے کا فیصلہ کیا۔
سی سی پی او نے ہدایت کی کہ بازاروں، پبلک ٹرانسپورٹ، بڑے اجتماعات اور دیگر رش والے مقامات پر جیب کتروں اور موبائل فون چوروں کی نگرانی بڑھائی جائے۔ ان کے مطابق صرف فون چوری کرنے والے افراد ہی نہیں بلکہ چوری شدہ فون خریدنے، فروخت کرنے، ان کے پرزہ جات الگ کرکے مارکیٹ میں بیچنے یا آئی ایم ای آئی تبدیل کرکے دوبارہ قابل استعمال بنانے والے پورے نیٹ ورک تک پہنچنا ضروری ہے۔
پولیس کو بازیاب ہونے والے موبائل فونز کی بیک ٹریکنگ کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے کہ فون کن ہاتھوں سے گزرتا ہوا موجودہ مقام تک پہنچا۔ موبائل فون کی خرید و فروخت میں شناختی دستاویزات اور متعلقہ ریکارڈ کی تصدیق پر زور دیا گیا تاکہ غیر قانونی مارکیٹ اور مسروقہ فونز کی سپلائی چین کے خلاف شواہد جمع کیے جا سکیں۔
ڈان کی رپورٹ میں کسی مخصوص دکان، مارکیٹ یا فرد کے خلاف مقدمے یا گرفتاری کی نئی تفصیل شامل نہیں، بلکہ یہ پولیس قیادت کی جانب سے شہر بھر کے لیے جاری آپریشنل ہدایات ہیں۔ کارروائی کے عملی نتائج، گرفتار افراد کی تعداد، بازیاب فونز اور آئی ایم ای آئی میں مبینہ ردوبدل کے مقدمات سے متعلق مزید اعدادوشمار پولیس کی آئندہ رپورٹس سے سامنے آئیں گے۔
موبائل فون چوری شہری علاقوں میں اسٹریٹ کرائم کا ایک عام مسئلہ ہے اور آئی ایم ای آئی میں غیر قانونی تبدیلی اس جرم کی بعد کی سپلائی چین کو چھپانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ لاہور پولیس کی نئی ہدایات کا ہدف چوری کی واردات کے ساتھ اس مارکیٹ اور تکنیکی سہولت کاری کو بھی نشانہ بنانا ہے جو مسروقہ فونز کو دوبارہ فروخت کے قابل بناتی ہے۔

