لاہور: پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں فضائی آلودگی نے ایک بار پھر تشویش بڑھا دی ہے اور عالمی فضائی معیار مانیٹرنگ پلیٹ فارم آئی کیو ایئر کی درجہ بندی میں شہر دنیا کے آلودہ ترین بڑے شہروں میں سرفہرست آگیا۔ پلیٹ فارم نے شہر کی ہوا کو 'غیر صحت مند' درجے میں رکھا، جبکہ ڈھاکا بھی آلودہ شہروں کی فہرست میں لاہور کے قریب رہا۔

فضائی آلودگی میں باریک ذرات، خصوصاً پی ایم 2.5، صحت کے لیے اہم خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔ آئی کیو ایئر کے مطابق یہ انتہائی باریک ذرات سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر دوران خون تک پہنچ سکتے ہیں اور طویل مدت تک زیادہ مقدار میں سامنا ہونے کی صورت میں صحت کے سنگین مسائل سے وابستہ ہو سکتے ہیں۔ پلیٹ فارم نے لاہور کے رہائشیوں کو بیرونی ورزش محدود کرنے، کھڑکیاں بند رکھنے، باہر جاتے وقت مناسب ماسک استعمال کرنے اور جہاں ممکن ہو اندرونی فضا صاف رکھنے کے اقدامات اختیار کرنے کی تجویز دی۔

اسی روز لاہور میں سینئر افسران سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ صوبائی حکومت ماحولیاتی مسائل اور سموگ سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برسوں میں ستمبر اور اکتوبر کے دوران لاہور اور پنجاب کے بعض حصوں میں سموگ کی شدت معمول کی سرگرمیوں کو متاثر کرتی رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں گزشتہ چند برسوں میں صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ سموگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ اس دعوے کو موجودہ دن کی عالمی درجہ بندی سے الگ تناظر میں دیکھا جانا چاہیے کیونکہ فضائی معیار گھنٹوں اور موسمی حالات کے ساتھ بدل سکتا ہے۔

لاہور کو رواں سال جنوری میں بھی آئی کیو ایئر کی عالمی درجہ بندی میں انتہائی خراب فضائی معیار کا سامنا رہا تھا، جب ایک موقع پر ایئر کوالٹی انڈیکس 452 ریکارڈ کیا گیا۔ اسی ہفتے یورپی یونین کی کوپرنیکس کلائمیٹ ایٹموسفیئر مانیٹرنگ سروس کی ایک نئی تجزیاتی رپورٹ میں بھی لاہور کو انتہائی خراب اوزون سطح والے شہروں میں شامل کیا گیا تھا۔

فضائی معیار کی روزانہ عالمی درجہ بندی ایک وقتی پیمائش ہوتی ہے اور دن کے مختلف اوقات میں تبدیل ہوسکتی ہے، اس لیے اسے پورے سال کی اوسط آلودگی کی درجہ بندی نہیں سمجھنا چاہیے۔ تاہم لاہور میں بار بار بلند آلودگی کا ریکارڈ سامنے آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹرانسپورٹ، صنعتی اخراج، گردوغبار، زرعی باقیات جلانے اور موسمی حالات سے جڑے عوامل پر مسلسل نگرانی اور طویل مدتی پالیسی اقدامات ضروری رہیں گے۔