لاہور: پنجاب میں 2026 کے مون سون سیزن کے دوران بارش سے متعلق واقعات میں 65 افراد جاں بحق اور 382 زخمی ہوئے، جبکہ 224 مکانات کو نقصان پہنچا۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی سیزن کے اختتام پر جاری رپورٹ کے مطابق بارشوں سے 21 مویشی بھی ہلاک ہوئے۔ صوبے کے بیشتر اضلاع میں معمول سے بہت زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی اور راولپنڈی 1,505 ملی میٹر کے ساتھ سب سے زیادہ مجموعی بارش والا ضلع رہا۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون کے دوران پنجاب کے بڑے دریاؤں میں کوئی بڑی سطح کی سیلابی صورت حال پیدا نہیں ہوئی، تاہم شیخوپورہ کے بعض نالوں میں پانی بڑھنے سے سیلاب جیسی کیفیت سامنے آئی۔ رپورٹ میں جھنگ، چنیوٹ، جوہرآباد، ساہیوال، پاکپتن، بہاولپور، خانیوال، ملتان، کوٹ ادو، ڈیرہ غازی خان، رحیم یار خان، راجن پور اور وہاڑی سمیت متعدد علاقوں میں بارش ریکارڈ ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل محمد سیف انور جپہ کے مطابق ریکارڈ بارش کے باوجود پانی کی نکاسی کے لیے پیشگی انتظامات اور مشینری کی فراہمی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں کو طبی امداد دی گئی اور اموات، زخمیوں، املاک اور مویشیوں کے نقصانات سے متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ یہ پی ڈی ایم اے کا سرکاری جائزہ ہے اور اس میں صوبے بھر کے مون سون سیزن کے مجموعی نقصانات بیان کیے گئے ہیں۔

اتھارٹی کے مطابق دریاؤں، ڈیموں اور بیراجوں کی مسلسل نگرانی جاری ہے اور پنجاب کے تمام دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول پر ہے۔ کنٹرول روم میں 24 گھنٹے نگرانی کا نظام بھی برقرار رکھا گیا۔ مون سون کے اختتام کی یہ رپورٹ سیزن کے انسانی اور املاکی نقصانات کا مجموعی سرکاری حساب فراہم کرتی ہے۔ آئندہ آفات کی تیاری کے لیے بارش کے مقامی ریکارڈ، نکاسی آب کی کارکردگی، شہری سیلاب کے خطرات اور متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے نتائج اہم ہوں گے۔