لاہور: پنجاب انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی نے اسموگ سیزن سے قبل آلودگی کے ذرائع کی نگرانی اور نفاذ کی کارروائیاں تیز کرتے ہوئے خصوصی نائٹ اسکواڈ اور ڈرون نگرانی تعینات کر دی ہے۔ ڈان کے مطابق یہ ٹیمیں خصوصاً موٹروے راہداریوں سے ملحق اضلاع میں فصلوں کی باقیات جلانے کے ممکنہ مقامات اور دیگر آلودگی ذرائع کی نشاندہی کر رہی ہیں۔

محکمہ ماحولیات کے مطابق ڈرون کے ذریعے مشتبہ آلودگی کے مقام کی شناخت کے بعد فیلڈ انفورسمنٹ ٹیمیں کارروائی کے لیے بھیجی جاتی ہیں۔ پنجاب ای پی اے کے ڈائریکٹر جنرل عبداللہ نیئر شیخ نے فیلڈ فارمیشنز کو آلودگی کے ذرائع پر مسلسل نظر رکھنے اور خلاف ورزی کی صورت میں فوری اقدام کی ہدایت کی ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ای پی اے ٹیموں نے پنجاب بھر میں 431 اینٹوں کے بھٹوں کا معائنہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق پانچ بھٹے مسمار، نو سیل اور نو ایف آئی آر درج کی گئیں، جبکہ مجموعی طور پر 14 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ صنعتی آلودگی کے خلاف کارروائی میں 269 صنعتی یونٹس کا معائنہ ہوا، 11 یونٹس سیل کیے گئے، ایک ایف آئی آر درج ہوئی اور 12 لاکھ 30 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔

پلاسٹک سے متعلق خلاف ورزیوں کے خلاف 309 معائنے کیے گئے، 17 مقامات سیل اور 1,297 کلوگرام پلاسٹک ضبط کیا گیا۔ تعمیراتی گرد کے خلاف بھی معائنے ہوئے، جبکہ سکشن ہڈ کی پابندی جانچنے کے لیے 245 مقامات کا جائزہ لیا گیا اور متعدد سیلنگ و نفاذی اقدامات کیے گئے۔

پنجاب میں خزاں اور سردیوں کے دوران فضائی آلودگی اور اسموگ ایک بار بار سامنے آنے والا مسئلہ ہے۔ موجودہ کارروائیوں کا مقصد اسموگ کے شدید دور سے پہلے ایسے اخراجی ذرائع کو محدود کرنا ہے جو فضائی معیار مزید خراب کر سکتے ہیں۔ بیان کردہ اعداد ای پی اے کی 24 گھنٹے کی انفورسمنٹ رپورٹ پر مبنی ہیں اور انہیں پورے سیزن کے مجموعی نتائج کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔