کراچی: پاکستان محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے مون سون سیزن میں سندھ ملک کا سب سے زیادہ بارش کی کمی کا شکار صوبہ رہا، جہاں یکم جولائی سے 30 ستمبر تک بارش معمول کی سطح سے 50.8 فیصد کم ریکارڈ کی گئی۔ اسی مدت میں کراچی میں بارش کا خسارہ 92 فیصد تک پہنچ گیا، جس سے شہر اور صوبے کے مختلف حصوں میں طویل خشک وقفوں اور پانی کی دستیابی سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ایکسپریس ٹریبیون میں شائع محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تین ماہ کے دوران مجموعی طور پر 120.5 ملی میٹر بارش ہوئی، جو اس مدت کے طویل مدتی معمول سے 19.3 فیصد کم ہے۔ سندھ میں صرف 71.1 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی اور یوں صوبائی سطح پر کمی 50.8 فیصد رہی۔ بلوچستان میں بارش معمول سے 33.7 فیصد، آزاد جموں و کشمیر میں 18.4 فیصد، خیبر پختونخوا میں 16.3 فیصد اور پنجاب میں 3.8 فیصد کم رہی۔ اس کے برعکس گلگت بلتستان میں بارش معمول سے 4.6 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
کراچی کا 92 فیصد بارشی خسارہ خاص طور پر نمایاں ہے، کیونکہ مون سون کے دوران شہر کو عام طور پر کئی مرحلوں میں بارش ملتی ہے۔ اس سال کم بارش کا مطلب یہ ہے کہ شہری نکاسی آب پر بڑے پیمانے کی مون سون بارشوں کا دباؤ نسبتاً کم رہا، لیکن دوسری طرف زیرِ زمین پانی، آبی ذخائر اور گرمی و فضائی آلودگی سے متعلق مسائل کے لیے خشک موسم کے اثرات اہم ہو سکتے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے تجزیے میں اس سال کی کم مون سون بارش کو موسمیاتی عوامل، خصوصاً ایل نینو سے منسلک حالات، سے جوڑا گیا ہے۔ ایل نینو بحرالکاہل کے درجہ حرارت میں تبدیلی سے پیدا ہونے والا ایک بڑا موسمیاتی رجحان ہے، جو جنوبی ایشیا میں بارش کے نظام کو متاثر کر سکتا ہے۔ تاہم کسی ایک صوبے یا شہر میں بارش کی کمی کو صرف ایک عامل کا نتیجہ سمجھنا درست نہیں، کیونکہ مقامی موسمی نظام، ہوا کے دباؤ اور مون سون کی لہروں کی سمت بھی اثرانداز ہوتی ہے۔
کم بارش کا زرعی شعبے اور آئندہ ربیع سیزن پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پانی کی دستیابی کے حوالے سے پہلے ہی قلت کے خدشات موجود ہیں اور ربیع فصلوں کے لیے پانی کی کمی کا تخمینہ تقریباً 25 فیصد تک بتایا گیا ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں کم بارش ایسے علاقوں کے لیے زیادہ اہم ہے جہاں بارانی زراعت، چراگاہیں اور مقامی آبی ذخائر براہِ راست موسمی بارش پر انحصار کرتے ہیں۔
یہ اعداد و شمار بارش کی مقدار کا موسمی جائزہ ہیں، کسی مخصوص ضلع میں خشک سالی کے باضابطہ اعلان کے مترادف نہیں۔ خشک سالی کی سرکاری درجہ بندی کے لیے مٹی کی نمی، ذخائر، درجہ حرارت اور زرعی حالات سمیت متعدد اشاریوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ تاہم موجودہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ 2026 کا مون سون سندھ، بالخصوص کراچی، میں معمول سے نمایاں طور پر خشک رہا۔

