لاہور: یورپی یونین کی کوپرنیکس اٹماسفیئر مانیٹرنگ سروس (CAMS) کے نئے عالمی تجزیے میں لاہور کو ان بڑے شہروں میں شامل کیا گیا ہے جہاں 2026 کے دوران زمینی سطح پر اوزون کی آلودگی ’’انتہائی خراب‘‘ درجے تک پہنچی۔ ڈان میں شائع ہونے والی اے ایف پی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی، ڈھاکا اور چین کے چونگ چنگ کے ساتھ لاہور کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے۔
تجزیے کے مطابق یکم جنوری سے 15 ستمبر 2026 کے دوران دنیا کی تقریباً 34 فیصد آبادی ایسے علاقوں میں رہی جہاں اوزون کی مقدار عالمی ادارۂ صحت کی سفارش کردہ حد سے کافی زیادہ تھی۔ عالمی ادارۂ صحت آٹھ گھنٹوں کی اوسط کے حساب سے فی مکعب میٹر 100 مائیکروگرام اوزون کو زیادہ سے زیادہ تجویز کردہ نمائش کی سطح قرار دیتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مزید 17 فیصد عالمی آبادی نے ’’بہت خراب‘‘ اوزون آلودگی کا سامنا کیا۔
ایشیا میں صورت حال سب سے زیادہ تشویشناک بتائی گئی، جہاں 53 فیصد آبادی انتہائی خراب اوزون سطح کے سامنے رہی، جبکہ مزید 22 فیصد آبادی نے بہت خراب اوزون حالات برداشت کیے۔ رپورٹ کے مطابق تیز صنعتی سرگرمی، ٹرانسپورٹ سے اخراج، جنگلاتی آگ اور زرعی باقیات جلانے جیسے عوامل ایشیا میں فضائی آلودگی کے بڑے ذرائع ہیں۔
زمینی سطح کی اوزون براہ راست کسی ایک چمنی یا گاڑی سے خارج نہیں ہوتی بلکہ دھوپ اور گرمی کی موجودگی میں گاڑیوں، صنعتوں، جنگلاتی آگ اور دوسرے ذرائع سے نکلنے والی گیسوں کے کیمیائی تعامل سے بنتی ہے۔ یہی اوزون انسانی صحت، فصلوں اور قدرتی ماحول کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس فضا کی بالائی تہہ میں موجود اوزون سورج کی مضر بالائے بنفشی شعاعوں سے تحفظ دیتی ہے۔
CAMS کے مطابق 2026 میں شدید گرمی کی لہروں اور بڑے پیمانے پر جنگلاتی آگ نے اوزون آلودگی بڑھانے کے لیے سازگار حالات پیدا کیے۔ ادارہ فضائی آلودگی اور آگ کی نگرانی کے لیے سیٹلائٹ ڈیٹا اور کمپیوٹر ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ فضائی آلودگی سرحدوں تک محدود نہیں رہتی اور ہزاروں کلومیٹر دور تک منتقل ہو سکتی ہے۔ لاہور کے لیے یہ نتیجہ اس وقت اہم ہے جب شہر پہلے ہی سردیوں کے موسم میں سموگ اور ذراتی آلودگی کے سنگین مسئلے کا سامنا کرتا رہا ہے۔

