کراچی: سندھ کے ساحلی اضلاع ٹھٹھہ، سجاول اور بدین میں موسمیاتی اور ساحلی خطرات کے مقابلے کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے 87 ارب روپے مالیت کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ منصوبے کا ہدف تینوں اضلاع کے 500 دیہات میں رہنے والے تقریباً 10 لاکھ افراد تک فوائد پہنچانا ہے۔

سندھ کی ساحلی پٹی سمندری پانی کی دراندازی، طوفانی لہروں، سیلاب، زمین اور آبی وسائل پر دباؤ اور بدلتے موسمی حالات جیسے متعدد خطرات سے دوچار ہے۔ ایسے علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کے ساتھ مقامی آبادی کے روزگار اور قدرتی ماحولیاتی نظام کی حفاظت بھی لچک پذیری کی منصوبہ بندی کا اہم حصہ ہوتی ہے۔

منصوبے کی مجموعی لاگت 87 ارب روپے بتائی گئی ہے اور اس کا جغرافیائی دائرہ ٹھٹھہ، سجاول اور بدین تک پھیلا ہوا ہے۔ دستیاب رپورٹنگ کے مطابق 500 دیہات اور تقریباً ایک ملین افراد کو مستفید کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس پیمانے کے باعث منصوبہ سندھ کی ساحلی آبادی کے لیے ایک بڑی ترقیاتی اور موسمیاتی مداخلت کی حیثیت رکھتا ہے۔

ساحلی لچک پذیری کے منصوبوں میں عموماً سیلاب اور طوفانی خطرات میں کمی، پانی کے انتظام، قدرتی حفاظتی نظام، مقامی معاشی سرگرمیوں اور بنیادی سہولتوں کی مضبوطی جیسے عناصر شامل ہوسکتے ہیں۔ تاہم اس خبر میں صرف وہی اہداف شامل کیے گئے ہیں جو دستیاب رپورٹ میں واضح طور پر بیان ہوئے ہیں؛ کسی غیرمصدقہ جزو یا مخصوص تعمیراتی سرگرمی کو منصوبے کا حصہ قرار نہیں دیا جا رہا۔

ٹھٹھہ، سجاول اور بدین میں بڑی آبادی زراعت، ماہی گیری اور ساحلی وسائل سے وابستہ ہے، اس لیے موسمیاتی دباؤ معاشی اور سماجی دونوں سطحوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔ منصوبے کے نتائج کا انحصار فنڈز کے بروقت استعمال، مقامی سطح پر نفاذ، دیکھ بھال اور خطرات کے مطابق منصوبہ بندی پر ہوگا۔

منصوبے کے آغاز کے بعد اصل پیش رفت کا اندازہ مرحلہ وار اہداف، مکمل ہونے والے کاموں اور مستفید آبادی تک خدمات کی حقیقی رسائی سے ہوگا۔ فی الحال اعلان کے مطابق 87 ارب روپے کی سرمایہ کاری تین ساحلی اضلاع کے 500 دیہات میں لچک پذیری بڑھانے کے لیے مختص ہے۔