لاڑکانہ: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے لاڑکانہ میں 600 بستروں پر مشتمل نئے ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔ سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ بھی تقریب میں شریک ہوئے۔ صوبائی حکام کے مطابق ہسپتال کی تکمیل 2028 میں متوقع ہے اور منصوبے کا مقصد لاڑکانہ اور گردونواح کے مریضوں کو جدید طبی سہولیات اور مفت علاج فراہم کرنا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد انہوں نے چانڈکا ہسپتال کے ڈاکٹروں سے ملاقات کی تھی اور علاقے میں طبی سہولیات پر دباؤ کا مشاہدہ کیا۔ ان کے مطابق چانڈکا ہسپتال 1970 کی دہائی میں اس وقت کی آبادی کی ضروریات کے لیے تعمیر کیا گیا تھا، لیکن اب یہ لاڑکانہ کے علاوہ قریبی علاقوں اور دوسرے شہروں سے آنے والے مریضوں کو بھی خدمات فراہم کرتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ نئے ہسپتال کا تصور اسی ضرورت کے پیش نظر سامنے آیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ لاڑکانہ کے شہریوں کو سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کے ذریعے علاج کی سہولت فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ ہسپتال کے پراجیکٹ ڈائریکٹر یاسر بھٹی نے تقریب کے دوران بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ کو منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

دورے کے دوران لاڑکانہ ڈویژن کے دیگر ترقیاتی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے رتوڈیرو واٹر سپلائی اسکیم کی بحالی اور توسیع کا ذکر کیا اور کہا کہ لاڑکانہ شہر میں گھروں تک پائپ کے ذریعے پانی پہنچانے اور سیوریج نظام کو آئندہ 25 برس کی ضروریات کے مطابق بہتر بنانے پر کام کیا جا رہا ہے۔ لاڑکانہ اور قمبر شہدادکوٹ میں سیوریج منصوبوں کی منصوبہ بندی بھی جاری ہے۔

ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے سیکریٹری نے بتایا کہ لاڑکانہ کے پانی، سیوریج اور بارش کے پانی کی نکاسی کے منصوبے کی فزیبلٹی مکمل ہو چکی ہے اور اسے دو سال میں مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ حکام کے مطابق شہدادکوٹ سیوریج اسکیم کا نصف کام مکمل ہے۔ نئے 600 بستروں کے ہسپتال اور شہری بنیادی ڈھانچے کے یہ منصوبے الگ الگ مراحل میں ہیں اور ان کی حتمی تکمیل مقررہ تعمیراتی شیڈول اور انتظامی پیش رفت سے مشروط ہوگی۔