لاس اینجلس: امریکا کے لاس اینجلس یونیفائیڈ اسکول ڈسٹرکٹ، ایل اے یو ایس ڈی، نے تمام جماعتوں کے طلبہ کے لیے ضلع کی جاری کردہ لیپ ٹاپس اور ٹیبلٹس پر جنریٹو مصنوعی ذہانت کے آلات تک رسائی عارضی طور پر روک دی ہے۔ اس موقوفی کا انکشاف 2 ستمبر کو اسکول بورڈ کی نئی مصنوعی ذہانت کمیٹی کے پہلے اجلاس میں ہوا، جہاں حکام نے بتایا کہ طلبہ ضلع کی ڈیوائسز پر چیٹ جی پی ٹی، کلاڈ اور اسی نوعیت کے جنریٹو اے آئی پلیٹ فارمز استعمال نہیں کر سکیں گے۔
ضلع کے مطابق یہ بندش موجودہ تعلیمی سال میں اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک تدریسی استعمال، طلبہ کی حفاظت اور مناسب حفاظتی ضابطوں کا جائزہ مکمل نہیں ہو جاتا۔ اسے مستقل پابندی کے بجائے عارضی موقوفی قرار دیا گیا ہے۔ سب سے اہم حد یہ ہے کہ فیصلہ صرف اسکول ڈسٹرکٹ کی ملکیت یا جاری کردہ ڈیوائسز پر طلبہ کی رسائی سے متعلق ہے؛ ذاتی موبائل فون، گھر کے کمپیوٹر یا غیر ضلعی ڈیوائسز پر استعمال کے لیے ابھی ایک جامع ضلعی پالیسی موجود نہیں۔
لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق سینئر ضلعی منتظمین نے یہ اقدام انتظامی اختیار کے تحت نافذ کیا اور اسے جون میں اسکول بورڈ کی جانب سے طلبہ کے اسکرین ٹائم کو محدود کرنے کی متفقہ قرارداد کی روح کے مطابق قرار دیا۔ تاہم کمیٹی اجلاس میں بعض بورڈ ارکان نے کہا کہ انہیں اس نمایاں تبدیلی کا پہلے علم نہیں تھا۔ رکن کیلی گونیز نے واضح پالیسی اور عوامی اطلاع کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ نک میلووِن نے موقوفی پر اعتراض نہ کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ اتنا اہم فیصلہ باقاعدہ بورڈ منظوری کے بغیر کس طرح نافذ اور ابلاغ کیا گیا۔
اس سے پہلے ضلع میں 13 سال یا اس سے زیادہ عمر کے طلبہ کو ڈیجیٹل شہریت اور ذمہ دارانہ استعمال کی تربیت مکمل کرنے کے بعد بعض جنریٹو اے آئی آلات تک رسائی دی جا سکتی تھی۔ نئی موقوفی نے فی الحال تمام عمر اور جماعتوں کے طلبہ کے لیے ضلعی ڈیوائسز پر ایک ہی پابندی نافذ کر دی ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد حتمی نصاب یا مستقبل کی اجازت کا فیصلہ کرنا نہیں، بلکہ پالیسی سازی کے دوران رسائی روکنا بتایا گیا ہے۔
کامن سینس میڈیا کی چیف پروگرام افسر یویٹ رینٹیریا نے کہا کہ ضلع طلبہ کے جنریٹو اے آئی استعمال سے وابستہ نمایاں خطرات کا جائزہ لینے کے لیے وقت لے رہا ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت سے متعلق خواندگی سکھانا ضروری ہے، مگر اس مقصد کے لیے بچوں کو لازماً براہ راست جنریٹو چیٹ بوٹس استعمال کرانا ضروری نہیں۔ انہوں نے یہ مؤقف بھی پیش کیا کہ کئی نمایاں اے آئی مصنوعات بنیادی طور پر بچوں کی حفاظت یا تعلیمی معاونت کو مرکز بنا کر تیار نہیں کی گئیں۔
ضلعی حکام اور والدین کی بحث میں غلط معلومات، تعلیمی کام کی اصل حیثیت، ڈیٹا کی رازداری، عمر کے مطابق استعمال اور ٹیکنالوجی پر ضرورت سے زیادہ انحصار جیسے خدشات زیر غور آئے۔ دوسری جانب یہ حقیقت بھی تسلیم کی گئی کہ امریکی نوجوان ذاتی ڈیوائسز پر اے آئی بڑے پیمانے پر استعمال کر رہے ہیں، اس لیے صرف تکنیکی بندش مکمل تعلیمی حکمت عملی کا متبادل نہیں۔ کمیٹی سے توقع ہے کہ وہ اے آئی خواندگی، جائز تدریسی استعمال، حفاظتی جانچ اور ذاتی ڈیوائسز سے متعلق پالیسی خلا پر سفارشات تیار کرے گی۔
یہ فیصلہ نیویارک سٹی کے سرکاری اسکولوں میں آٹھویں جماعت تک طلبہ کے لیے ایک سالہ اے آئی موقوفی کے اعلان کے فوراً بعد سامنے آیا، لیکن دونوں نظاموں کی حدود ایک جیسی نہیں۔ لاس اینجلس کا موجودہ اقدام تمام جماعتوں کو شامل کرتا ہے مگر صرف ضلع کی جاری کردہ ڈیوائسز تک محدود ہے۔ اس لیے اسے شہر بھر، نجی اسکولوں، گھریلو استعمال یا ہر قسم کی مصنوعی ذہانت پر عمومی پابندی کہنا درست نہیں ہوگا۔
لاس اینجلس اسکول ڈسٹرکٹ نے 2024 میں کلاس رومز میں موبائل فون محدود کرنے اور 2026 میں اسکرین ٹائم کے سخت قواعد اپنانے جیسے اقدامات بھی کیے تھے۔ نئی موقوفی اسی وسیع بحث کا حصہ ہے کہ تعلیمی ٹیکنالوجی کہاں سیکھنے میں مدد دیتی ہے اور کہاں انسانی تعامل، خود مختار سوچ یا رازداری کو متاثر کر سکتی ہے۔ حتمی پالیسی کمیٹی کی سفارشات، بورڈ کی ممکنہ کارروائی اور ضلعی حفاظتی جائزے کے بعد واضح ہوگی؛ فی الحال تصدیق شدہ فیصلہ طلبہ کی ضلعی ڈیوائسز پر جنریٹو اے آئی رسائی کی عارضی بندش ہے۔




